Skip to main content

ڈونلڈ ٹرمپ ہنگاموں سے ڈر کر وائٹ ہاؤس کے زیرِ زمین بنکر میں چھپ گئے

واشنگٹن ڈی سی: امریکا میں سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کے قتل کے خلاف شروع ہونے والے ہنگامے شدید سے شدید تر ہوتے جارہے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان ہنگاموں اور مظاہرین سے اتنے خوفزدہ ہوگئے کہ وہ خود بھی اپنی جان بچانے کےلیے وائٹ ہاؤس کے زیرِ زمین بنکر میں چھپ گئے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق، سیاہ فام شہری کے قتل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین جمعے کے روز وائٹ ہاؤس (امریکی ایوانِ صدر) کے بہت قریب پہنچ گئے تھے اور مقامی پولیس سے ان کی جھڑپیں جاری تھیں۔

اس موقع پر ٹرمپ نے بیان جاری کیا کہ اگر مظاہرین وائٹ ہاؤس میں داخل ہوئے تو انہیں خونخوار کتوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کاسامنا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ کے اس بیان کو مظاہرین نے اپنے لیے چیلنج سمجھا اور وائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہونے کی کوششیں شروع کردیں۔

ان حالات میں مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی حفاظت پر مامور، امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکار بوکھلا گئے اور وہ انہیں وائٹ ہاؤس کے زیرِ زمین بنکر میں لے گئے جسے دہشت گرد حملے یا جنگ میں صدر کی جان بچانے کےلیے خاص طور پر بنایا گیا ہے۔

اگرچہ یہ بات تقریباً طے ہے کہ ٹرمپ نے جمعے کا دن اسی بنکر میں گزارا لیکن وہ ہفتے اور اتوار کے روز بھی کسی عوامی مقام پر دکھائی نہیں دیئے اور نہ ہی انہوں نے وائٹ ہاؤس میں کسی لائیو پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس کی وجہ سے یہ افواہیں پھیل رہی ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ جمعے کے روز سے وائٹ ہاؤس کے بنکر میں چھپے ہوئے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیے: امریکا میں سیاہ فام کی ہلاکت پر ہنگامے جلاؤ گھیراؤ، کئی شہروں میں کرفیو نافذ

واضح رہے کہ اب تک امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سمیت، کم از کم 75 امریکی شہر ہنگاموں اور احتجاج کی زد میں آچکے ہیں جبکہ ان مظاہروں کی شدت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

The post ڈونلڈ ٹرمپ ہنگاموں سے ڈر کر وائٹ ہاؤس کے زیرِ زمین بنکر میں چھپ گئے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/2TZfdEj

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...