Skip to main content

واہگہ بارڈر پر کھڑی بھارتی ریلوے کی 10 بوگیاں 9 ماہ سے واپسی کی منتظر

 لاہور: بھارتی ریلوے کی 10 بوگیاں گزشتہ 9 ماہ سے واہگہ بارڈر ٹریک پر کھڑی ہے جنہیں بھارت واپس لینے کو تیار نہیں ہے۔

پاکستان اوربھارت کے مابین چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کی بوگیوں کا ہرسال تبادلہ کیا جاتا ہے، 6 ماہ کے لئے پاکستانی جب کہ 6 ماہ کے لئے بھارتی بوگیاں استعمال کی جاتی ہے۔ 4 جون سے 4 دسمبرتک بھارتی بوگیاں استعمال ہوتی ہیں جبکہ سال کے باقی عرصے میں پاکستانی بوگیاں استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم سال بھرانجن پاکستان کا ہی استعمال ہوتا ہے لیکن اب چونکہ 8اگست 2019 سے پاکستان اوربھارت کے مابین چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس بند ہوچکی ہے تو بوگیوں کا تبادلہ بھی نہیں ہوگا۔ آخری بار پاکستان آنے والی بھارتی ریلوے کی 10 بوگیاں ابھی تک لاہورکے واہگہ ریلوے اسٹیشن پرکھڑی ہیں جنہیں بھارت واپس لینے کو تیار نہیں ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق بھارتی ریلوے کو بوگیوں کی واپسی سے متعلق متعددخطوط لکھے جاچکے ہیں مگران کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں ملا ہے۔ ادھر وزیرریلوے شیخ رشید متعدد بار یہ واضح کرچکے ہیں کہ جب تک وہ وزیر ہیں سمجھوتہ ایکسپریس نہیں چلے گی۔ پاکستان نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد بھارت کے ساتھ ریل رابطے منقطع کردیئے تھے اور 8 اگست 2019 کو سمجھوتہ ایکسپریس کا پہیہ رک گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی مال بردار گاڑی کی بھی 9 کوچز بھارت میں موجود ہیں، پاکستان اور بھارت کے مابین شملہ معاہدےک ے تحت 22 جولائی 1976 کو لاہور سے اٹاری تک سمجھوتہ ایکسپریس شروع کی گئی تھی، اس ٹرین میں 936 سیٹوں والی اس ٹرین سے متعلق ابتدا میں 3 سال کا معاہدہ ہواتھا۔ جولائی 1991 میں دونوں ملکوں کے مابین سمجھوتہ ایکسپریس سروس بحال رکھنے سے متعلق ایک اور معاہدہ ہوا جبکہ مئی 1994 کو روزانہ کی بنیاد پر چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کے شیڈول میں تبدیلی کردی گئی اور یہ ٹرین ہفتے میں 2 بار چلنے لگی۔ یہ ٹرین لاہور سے دہلی تک جاتی تھی تاہم بعد میں اس کا سفر کم کردیا گیا اور پاکستانی ٹرین مسافروں کو بھارت کے اٹاری بارڈر پر اتاردیتی ہے جہاں سے انہیں بھارتی ٹرین سے دہلی تک پہنچایا جاتا ہے۔

بھارت سے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے سکھوں کے اسپیشل جتھے بھی ٹرین کے ذریعے ہی پاکستان آتے اور واپس جاتے ہیں تاہم اب ٹرین کا پہیہ بند ہونے سے یہ سکھوں کی آمدورفت بھی واہگہ بارڈر کے راستے پیدل ہوتی ہے۔

 

The post واہگہ بارڈر پر کھڑی بھارتی ریلوے کی 10 بوگیاں 9 ماہ سے واپسی کی منتظر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3gI0Y0w

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...