Skip to main content

حکومت کا چھوٹے کاروباروں کے تین ماہ کے بجلی کے بلز کی ادائیگی کا اعلان

 اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم ریلیف پیکیج کے تحت چھوٹے دکان داروں اور کاروباروں کا بجلی کا بلز دینے کا اعلان کردیا۔

مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم چھوٹا کاروبار امدادی پیکیج کی منظوری دی گئی۔ بعدازاں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ چھوٹے کاروبار لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد جب بھی اپنا کام دوبارہ شروع کریں گے تو ان کا تین ماہ کا بل حکومت ادا کرے گی، اس پیکیج سے 35 لاکھ افراد کو فائدہ ہوگا جن میں چھوٹی دکانیں، درزی، مارکیٹیں اور چھوٹی صنعتیں شامل ہیں۔

حماد اظہر نے کہا کہ اس پالیسی سے 5 کلو واٹ کمرشل کنشکن والے کاروبار اور 70 کلو واٹ والے صنعتی کنکشن مستفید ہوں گے، اس سے ملک کے 95 فیصد کاروباروں اور 80 فی صد صنعتوں کو فائدہ ہوگا، ان کاروباروں کے پچھلے سال مئی، جون اور جولائی کے بجلی کے بلز کی جتنی مجموعی رقم بنتی تھی، اتنی رقم ان کے مئی کے بلز میں لوڈ کردی جائے گی، تاکہ وہ بجلی استعمال کرسکیں اور انہیں بلز نہ ادا کرنے پڑیں، یہ رقم ان کے اکاؤنٹ میں صرف تین ماہ کے لیے نہیں بلکہ 6 ماہ تک موجود رہے گی کیونکہ کاروبار تو ابھی بند پڑے ہیں۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ جب بھی کاروبار شروع ہوگا وہ اس رقم سے فائدہ اٹھاسکیں گے، 32 لاکھ کمرشل کنکشن اور 4 لاکھ چھوٹی صنعتیں مستفید ہوں گی، اس پیکیج کا حجم 50 ارب روپے ہے جو آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور کراچی میں کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی لاگو ہوگا، وزارت خزانہ ان محکموں کو ادائیگی کرے گی۔

گزشتہ روز حماد اظہر نے ٹویٹ کیا تھا کہ وزارت چھوٹے کاروبار کیلئے فری فناننس گارنٹی پیکیج پرکام کررہی ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کیلیے آسان قرضوں کی فراہمی بھی زیرِ غور ہے، اگلے مرحلے میں ایسے شعبوں کو امداد دی جائے گی جو کورونا سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چھوٹے کاروبار اورصنعتوں کیلیے امدادی پیکیج

واضح رہے ای سی سی نے بے روزگارہونے والے مزدوروں اوردیہاڑی داروں کیلئے 75ارب روپے کی امداد اس ہفتے منظورکی تھی جووزیراعظم کے 200 ارب روپے کی پیکیج میں سے 12ہزارروپے فی کس کے حساب سے دیئے جائیں گے۔قبل ازیں کابینہ کمیٹی نے معاشی بحالی کے لیے سواکھرب روپے کا امدادی پیکج منظورکیا تھا۔

The post حکومت کا چھوٹے کاروباروں کے تین ماہ کے بجلی کے بلز کی ادائیگی کا اعلان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3aIb4u7

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...