Skip to main content

ایس او پیز پرعمل کرنے والے علاقوں میں نرمی کی جا سکتی ہے، وزیر اعلی بلوچستان

کوئٹہ: وزیر اعلی بلوچستان جام کمال علیانی نے کہا ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے والے علاقوں میں نرمی کی جا سکتی ہے۔

سول سیکریٹیریٹ میں قائم کنٹرول روم کے دورے کے موقعے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے  ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ عوام سے اپیل کرتا ہوں گھروں سے نہ نکلیں۔ خوش قسمتی سے بلوچستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی شرح اموات کم ہے۔ہمارے پاس صحت کی سہولیات بہت کم ہیں۔ زیادہ متاثرہ علاقوں میں سخت لاک ڈاون کر سکتے ہیں ۔بلوچستان کا موازنہ کسی اور  صوبے سے نہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ ابھی تک کرونا کو حقیقت نہیں سمجھ رہے۔ دنیا میں جتنے لوگ مرے ایسے ہی تو نہیں مر گئے۔:پاکستان میں کوروناپہلے فیز سے نکل کر دوسرے فیز میں داخل ہو گیا۔

چند گھنٹوں میں 74 کیسز سامنے آئے، ترجمان بلوچستان حکومت 

دوسری جانب ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بلوچستان میں کورونا وائرس کا مقامی سطح پر پھیلاؤ تشویش ناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ چند گھنٹوں کے دوران مزید 71 کیسز سامنے آئے ہیں ۔ رینڈم ٹیسٹنگ کا عمل جاری ہے۔ مجموعی طور پر بلوچستان میں 801کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے تمام اضلاع کے مساجد میں علماء کرام بھرپور تعاون کررہے ہیں۔علمائے کرام کی جانب سے 20نکاتی ایجنڈے پر عمل کیا جارہا ہے۔عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے ہونگے ورنہ سخت فیصلے کیے جائیں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے ڈاکٹرز نے بھی لاک ڈاوٴن کو سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر 27سودوکانوں کو سیل کیا گیا ہے۔لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر لوگوں کو گرفتار کرکے قرنطینہ سینٹرز منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لاک ڈاوٴن میں کچھ نرمی کی گی ہے پانچ سیکٹرز کو کاروبار کی اجازت دی ہے۔ بلوچستان میں 5مئی تک لاک ڈاون کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے باعث  کوئٹہ میں گزشتہ 35 روز سے لاک ڈاؤن نافذ ہے اور شہر کے تمام کاروباری مراکز بند ہیں۔

The post ایس او پیز پرعمل کرنے والے علاقوں میں نرمی کی جا سکتی ہے، وزیر اعلی بلوچستان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/3eX43ZK

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...