Skip to main content

لاک ڈاؤن کے دوران رینٹ اے کار کا کاروبار کرنے والوں کی چاندی  

کراچی: ملک میں جاری لاک ڈاون کے باعث رینٹ اے کار کا کاروبار کرنے والوں کی چاندی ہوگئی ہے۔

لاک ڈاون کے سیزن میں رینٹ اے کار کا کاروبار کرنے والے ماہوار کرائے کی بنیاد پر نئے اور پرانے ماڈلوں  کی کاریں لانگ روٹس پر مسافروں کو لانے کیجانے کے لیے حوالے کی بنیاد پر دے رہے ہیں اور کچھ کار مالکان انفرادی سطح پر خود لانگ روٹوں پر اپنی گاڑیاں چلارہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ کرونالاک ڈاون میں پبلک ٹرانسپورٹ سروس بند ہونے کی وجہ سے لانگ روٹس پربسیں چلانے والےبیروزگار ڈرائیورز کی ایک بڑی تعداد نے رینٹ اے کار والوں ہفتہ وار یا ماہوار بنیادوں پر گاڑیاں لیکر فی فرد کرائے کی بنیاد پر چلانا شروع کردیا ہے۔ اس طرح سے لاک ڈاون کے دوران بھی ضرورت مند مسافروں کی اندرون ملک ویگو، پراڈو، کرولا جی ایل آئی، ایکس ایل آئی سمیت دیگر اقسام کی نجی کاروں کے ذریعے منظم انداز میں کراچی آمد ورفت جاری ہے۔

ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ ضرورت مند مسافروں کو کراچی سے ملتان، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، پشاور، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور بٹگرام تک پہنچانے کے لیے فی سواری بالترتیب  15سے 17ہزار روپے وصول کیے جارہے ہیں جبکہ مزکورہ شہروں سے کراچی آنے والے مسافروں سے بالترتیب 5ہزار روپے سے 7ہزار روپے فی مسافر وصول کیاجارہاہے۔ ذرائع نے بتایاکہ ان نجی کاروں میں پرانے ماڈل کی کرولا جی ایل آئی اور ایکس ایل آئی کاروں کو لانگ روٹس پر بھی سی این جی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ کاروں اور ویگو میں 4 مسافر جبکہ پراڈو سمیت دیگر بڑی گاڑیوں میں 6 تا 8 مسافروں کو لایا جارہا ہے۔

لانگ روٹس پر کمرشل بنیادوں پر چلائی جانے والی مزکورہ کاریں موٹروے کا روٹ استعمال کررہی ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ ملک بھر کے ائیرپورٹس پر چلنے والی کیب کمپنیوں نے بھی فضائی مسافروں کی آمدورفت بند ہونے کے سبب اندرون شہر اور بیرون شہررعایتی ٹیرف کے ساتھ آمدورفت کی پیشکش کردی ہے۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران رینٹ  اے کار کی ڈیمانڈ مزید بڑھگئی ہے جس سے اس بات کا امکان ہے کہ عیدالفطر تک ان کاروں کے ذریعے آمدورفت کا حجم مزید بڑھ جانے سے انکے کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔

The post لاک ڈاؤن کے دوران رینٹ اے کار کا کاروبار کرنے والوں کی چاندی   appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2KFduit

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...