Skip to main content

طورخم اور چمن بارڈر6 دن کیلیے مشروط کھولنے کا مطالبہ

کراچی: افغانستان کے ساتھ تجارت کرنے والے کاروباریوں نے لاک ڈاون کے دوران افعانستان کے لیے پھل سبزیوں سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی برآمدات کی اجازت دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

پاک افغان جوائنٹ چیمبر کے سابق ڈائریکٹر ضیاءالحق سرحدی نے بتایاکہ کورونالاک ڈاون سے متاثرہ ملک افغانستان میں سبزی پھلوں ودیگر اشیائے خوردونوش کمی واقع ہوئی ہے، حکومت اگر اپنی برآمدی سرگرمیاں بڑھانا چاہتی ہے تو وہ جزبہ خیرسگالی کے تحت پھل سبزیوں سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کے لیے ہفتے کے تین دن کے بجائے 6 دن کے لیے پشاورطورخم اور کوئٹہ چمن کی سرحدوں کومشروط انداز میں کھول دے۔

ضیاءالحق سرحدی  نے کہا کہ پاک افغان سرحدوں کی بندش سے کراچی سے خیبر تک افغان ٹرانزٹ کے 7ہزار سے زائد کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں اور افغانستان میں 7ہزار خالی کنٹینر رکنے پر ٹرانسپورٹروں کی مشکلات اور تاجربارادری کی بے چینی بڑھ گئی ہے، اس وقت 7ہزار سے زائد کنٹینرز کراچی بندرگاہ میں کھڑے ہیں اُن پریومیہ لاکھوں روپے کا ڈٹینشن اورڈیمرج چارجز عائد ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے میں تین روز کے لیے طورخم بارڈ اور چمن بارڈ کھولنے کی وجہ سے ان کنٹینرز کی تعداد میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

کے پی بورڈ آف ٹریڈ اینڈ انویسمنٹ میں منعقدہ اجلاس میں وزیراعلی کے معاون خصوصی عبدالکریم خان نے کے پی بی آئی ٹی کے چیف ایگزیکٹیو کو ہدایت کی پاک افغان باہمی تجارت بڑھانے، افغان ٹرانزٹ کے مشکلات کم کرنے کے لئے وزارت کامرس اور وزارت داخلہ کے ساتھ معاملات کے حل کے لئے اجلاس منعقد کرنے اورکورونا وائرس لاگ ڈان ک دوران جذبہ خیرسگالی کے تحت افغانستان کو فوڈ ایٹم کی سپلائی یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے بزنس کمیونٹی کے مشکلات کم کرنے کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ پاک افغان باہمی تجارت اور ٹرانزٹ مشکلات کم کرنے کے لئے ہمہ وقت کوششوں کی تعریف کی۔

پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل نجیب اللہ احمد زئی نے اس موقع پرکہاکہ کورونا وائرس لاک ڈاون اور بارڈ کی بندش سے باہمی تجارت کم ہوئی اور افغانستان میں سبزی مہنگی ہوگئی اور فی کلو ٹماٹر افغانستان میں 200روپے جبکہ پشاور وہی ٹماٹر 30 روپے کلو فروخت ہورہی جس سے زمینداروں کا بھی نقصان ہورہا ہے دوسری جانب افغانستان پھلوں کی سپلائی کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہفتہ میں تین دن پیر منگل اور جمعہ کے روز بارڈ کھولنے کی اجازت ملنے کے باوجود باہمی تجارت کو نقصان پہنچا ہے اور افغانستان ٹرانزٹ اور تجارت چاہ بہار منتقل ہوگیا ہے جس سے پاک افغان باہمی تجارت کی حجم میں کمی آئی اور دونوں حکومتیں اقدامات اٹھاکر ایکسپورٹر امپورٹر کو سہولیات دیں۔

ایف پی سی سی آئی کوارڈینیٹرسرتاج احمد خان نے کہاکہ پاک چائینہ طرز پر پاک افغان فری ٹریڈ معاہد کرناچاہئے، پاک افغان کے 20بارڈ میں 4فعال دیگر 16 بارڈ سٹیشنوں کو بھی فعال کرکے کھو ل کرباہمی تجارت کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے فیض آباد بدخشان میں پاکستانی قونصلیٹ کھولنے اور باہمی تجارت بڑھانے کے لئے اعلی سطی کوارڈینیشن کمیٹی جس میں دونوں ممالک کے قونصلیٹ، آفسران اور ٹریڈرزشامل ہوں بنانے کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ انہوں نے پاک افغان باہمی تجارت کے فروغ چترال شاہ سلیم اور ارندو بارڈ باہمی تجارت اور وسطی ایشیائی ریاستوں تاجکستان ودیگر ممالک تک رسائی دینے کا بھی مطالبہ کیاہے۔

The post طورخم اور چمن بارڈر6 دن کیلیے مشروط کھولنے کا مطالبہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2yLVvUS

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...