Skip to main content

کورونا کاخوف، خواجہ سراؤں نے بھی سرگرمیاں روک دیں

 لاہور: کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں خواجہ سراؤں نے بھی اپنی سرگرمیاں معطل کردیں اور ناچ گانے کے پروگراموں ، تقریبات میں شرکت بند کردی ہے۔ خواجہ سراؤں کے حقوق اورصحت کے حوالے سے کام کرنیوالی این جی اوز کی طرف سے خواجہ سراؤں میں کورونا وائرس سے بچاؤ سے متعلق آگاہی مہم بھی چلائی جارہی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں خواجہ سراؤں کی تعداد 5 لاکھ کے قریب ہے تاہم مردم شماری کے مطابق ان کی تعداد 10 ہزار سے زائد ظاہر کی گئی ہے۔ خواجہ سراؤں کی بڑی تعداد پنجاب میں آباد ہے جن کا ذریعہ روزگار شادی بیاہ اورخوشی کی تقریبات میں ناچ گانا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں شادی بیاہ کی تقریبات کے انعقاد پرپابندی عائد کررکھی ہے جس کے بعد خواجہ سراؤں نے بھی اپنی سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔

لاہور میں خواجہ سراؤں کی مقامی گورو نیلی رانا نے بتایا کہ کوروناوائرس سے ہر شخص متاثر ہورہا ہے، ایسے میں خواجہ سراؤں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیارکرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خواجہ سراؤں کوہدایات کی گئی ہیں کہ وہ اپنی سرگرمیاں ختم کردیں اورشادی بیاہ سمیت دیگرکسی بھی قسم کی تقریبات میں شریک نہ ہوں ۔ نیلی رانا کا کہنا تھا غربت کی وجہ سے کئی خواجہ سرا بھیک بھی مانگتے ہیں انہیں بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس عمل کوترک کردیں تاہم پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ خواجہ سراؤں کے پاس گھرکا چولہاجلانے کے لئے کوئی متبادل روزگارنہیں ہے۔ حکومت کوچاہیے کہ خواجہ سراؤں کے لئے خصوصی پیکج کا اعلان کرے اور انہیں راشن دیا جائے۔

خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ اوران کی صحت سے متعلق آگاہی کے لئے کام کرنیوالی این جی او ساتھی کی رہنما زعنائیہ چوہدری نے ایکسپریس کوبتایا کہ ان کی طرف سے ناصرف خواجہ سراؤں میں آگاہی پیدا کی جارہی ہے بلکہ لاہورسمیت مختلف شہروں میں خواجہ سرا کمیونٹی آباد ہے ان میں ہینڈسینی ٹائزر، ماسک اورجراثیم کش صابن تقسیم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ان کی تنظیم کی طرف سے خواجہ سراؤں کا ٹمپریچربھی چیک کیا جارہا ہے۔ یہ لوگ چونکہ زیادہ تر گروپس کی شکل میں ہی رہناپسند کرتے ہیں تواس لئے انہیں گائیڈکرنا اوران کا چیک اپ قدرے آسان ہے۔ زعنائیہ چوہدری نے بتایا کہ اللہ کا شکر ہے بھی تک کسی خواجہ سرا میں کورونا کی علامات نہیں پائی گئی ہیں۔اس کے باوجود ہماری کوشش ہے کہ انہیں مختلف سرگرمیوں میں شرکت سے روکا جائے۔

دوسری طرف لاہورکی مختلف شاہراؤں پر بھیک مانگنے والے خواجہ سراؤں کی تعداد میں کمی نظرآئی ہے۔ لاہورکے جناح اسپتال ، برکت مارکیٹ ،مون مارکیٹ سمیت دیگرمقامات پر بھیک مانگنے والے خواجہ سراؤں نے ماسک پہن رکھے تھے۔ ایک خواجہ سرا امبرشہزادی کا کہنا تھا بھیک مانگ کر جوپیسے کماتے ہیں ان سے ہی ان کے گھرکا چولہاجلتا ہے اب اگروہ گھرمیں بیٹھ جائیں تو کھائیں گے کہاں سے ، حکومت ان کے لئے اگر راشن کا بندوبست کردے تووہ بھی گھروں میں بیٹھ سکتے ہیں۔

اس حوالے سے پنجاب سوشل ویلفیئرڈیپارٹمنٹ کے حکام کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ کورونا سے متاثرہ افراد اوران کے خاندانوں کی امداد کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ اگر کوئی خواجہ سرامتاثرہوتا ہے توان کی بھی مدد کی جائے اورمشکل کی اس گھڑی میں کسی کوتنہانہیں چھوڑیں گے۔

The post کورونا کاخوف، خواجہ سراؤں نے بھی سرگرمیاں روک دیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/39sJd06

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...