Skip to main content

مون سون کی بارشیں، کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معمول پر نہ آسکی

کراچی: بارش کو تھمے ہوئے 24 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود کراچی میں بجلی کی فراہمی معمول پرنہ آسکی جب کہ شہر کے بیشتر علاقوں 48 گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی سے محروم ہیں۔

اتوار اور پیر کی درمیانی شب شروع ہونے والی مون سون کی پہلی بارش کا سلسلہ منگل کی شام کو تھم گیا تھا بارش کا سلسلہ رکنے کے 24 گھنٹے بعد بھی شہرمیں بجلی کی فراہمی معمول پر نہیں آسکی ہے، بارش کے نتیجے میں آنے والے 5 ہزار سے زائد چھوٹی بڑی فنی خرابیوں کو دور کرنے میں کے الیکٹرک کی مرمتی ٹیمیں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں۔

بدھ کی رات گئے تک شہر کے متعدد علاقوں میں مسلسل 3 روز سے بجلی کی فراہمی منقطع تھی جبکہ کے الیکٹرک کے شکایتی مراکز کی جانب سے شہریوں کی شکایات درج کرنے سے بھی گریز کیا جارہا تھا، صرف ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں سیکڑوں شکایات پر 48 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کے الیکٹرک کا عملہ نہیں پہنچ پایا تھا۔

ذرائع کے مطابق شہر بھر میں گرڈ اسٹیشن کے ٹرانسفارمر میں خرابی، کیبل فالٹس، لنکنگ کیبل فالٹس، تاریں ٹوٹنے، سب اسٹیشن میں پانی بھر جانے۔ پی ایم ٹی کی کیبل جل جانے، جمپر لوز ہوجانے کی ہزاروں شکایات تاحال دور نہیں کی جاسکی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ نہ صرف کے الیکٹرک کی مرمتی ٹیمیں شہر میں آنے والے فالٹس کی تعداد مقابلے میں انتہائی ناکافی تھیں جبکہ کے الیکٹرک کے پیچیدہ سسٹم کی وجہ سے انھیں بجلی کا نظام بحال کرنے کیلیے درکاراضافی تاریں، کیبل اور دیگر سامان کے حصول میں بھی دشواری کا سامنا تھا۔

بجلی کی عدم فراہمی سے متاثرہ علاقوں میں ڈیفنس، کلفٹن، شیریں جناح کالونی، کیماڑی، ماڑی پور، اورنگی ٹاؤن، نارتھ کراچی، نئی کراچی، نارتھ ناظم آباد، گلزار ہجری، اسکیم 33، گلشن اقبال، گلستان جوہر، ملیر، شاہ فیصل کالونی کورنگی، لانڈھی، قائد آباد، محمود آباد، منظور کالونی اور اخترکالونی شامل ہیں۔

The post مون سون کی بارشیں، کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معمول پر نہ آسکی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/333600x

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...