Skip to main content

جگہ جگہ گندگی سے وبائی امراض پھوٹ سکتے ہیں، ماہرین طب

کراچی:  بارش کے بعد جگہ جگہ گندگی اورغلاظت سے وبائی امراض پھوٹ سکتے ہیں جب کہ تعفن سے سانس کے امراض، مختلف اقسام کی الرجی سمیت دیگر طبی مسائل جنم لیں گے۔

شدید بارش کے نتیجے میں ڈنگی وائرس کے پھیلاؤکا سبب بننے والے ایڈایچپٹی مادہ مچھروں کے انڈوں سے افزائش نسل کا موسم شروع ہوگیا، مادہ مچھروں کے انڈوں سے افزائش نسل بارشوں کے موسم میں تیزی سے ہوتی ہے جبکہ ملیریا اورمچھروں سمیت مکھیوں اورحشرت الارض کا موسم بھی بارشوں میں ہی شروع ہوتا ہے، گھروں کے اطراف جمع ہونے والے بارش کے پانی میں مٹی کا تیل ڈال کر پانی میں مچھروں کی افزائش نسل کو روکاجاسکتا ہے۔

ضلعی ہیلتھ افسران کو بھی ڈائریکٹر صحت کراچی ڈاکٹر ہاشم شاہ نے ہدایت دی ہے کہ کراچی کے 6 اضلاع میں قائم تمام ضلعی اسپتالوں، پرائمری وسیکنڈری  صحت کے مراکز کے انتظامی افسران کوہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے ہوئے جان بچانے والی دواؤں کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے ،تمام ہیلتھ ایجوکیشن افسران اپنے اپنے اضلاع میں بارش کے موقع پر غیرضروری طور پرباہرنہ نکلالنے کے حوالے سے آگاہی مہم شروع کریں،بچوں میں بجلی کے کھمبوں کو ہاتھ نہ لگانے کے حوالے سے آگاہی پمفلٹ جاری کریں۔

ڈائریکٹر صحت کراچی ڈاکٹرسید ہاشم شاہ نے نیوکراچی، اربن ہیلتھ سینٹر اورابراہیم حیدری اسپتال کا بھی دورہ کیا اور تمام اسپتالوںکی انتظامی کو ہدایت دی کہ کسی بھی اضلاع میں دواؤںکی کمی کی فوری اطلاع دی جائے  تاکہ ضلعی سطح پر دواؤں کی فراہمی کو یقینی بنایاجاسکے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بارشوں کے بعد شہرمیںگندگی غلاظت سے  پیداہونے والی طبی مسائل ہولناک صورت اختیارکرتے ہیں، رپورٹ کے مطابق کراچی سے یومیہ17ہزار ٹن کچرا جمع ہوتا ہے جو سٹرکوں کے اطراف پھیلا رہتا ہے اس کچرے میں مچھروں، مکھیوں اور دیگر حشرت الارض کیٹرے مکوڑوں کی افزائش نسل ہوتی رہتی ہے جبکہ اس گندگی اور غلاظت کے ڈھیروں سے فضابھی آلودہ رہتی ہے لیکن ذمے دار اداروں کے انتظامی افسران سالہا سال بجٹ نہ ہونے کا عذر پیش کرتے رہتے ہیں جس کا خمیازہ عوام کوبھگتنا پڑتا ہے۔

کراچی میں کئی سالوں سے جراثیم کش ادویات کا اسپرے مہم نہ ہونے سے ڈنگی، ملیریا سمیت دیگر اقسام کے مچھروںکی افزائش نسل تیزی سے ہورہی ہے ، ذمے  دار اداروں کے افسران کی اس غلفت ولاپراہی کے نتیجے میں عوام کوڈنگی، ملیریا، نگلیریا، چکن گنیا اورکانگو وائرس جیسے خطرناک وائرس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

The post جگہ جگہ گندگی سے وبائی امراض پھوٹ سکتے ہیں، ماہرین طب appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2GQmCPZ

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...