Skip to main content

ججزریفرنس کی کل سماعت، وکلا برادری کا یوم سیاہ

کوئٹہ /  اسلام آباد / کراچی: ججزریفرنس کی کل سماعت پروکلا برادری نے یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وکلا برادری حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے 2 ججز جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف بدنیتی کی بنیاد پر دائر ریفرنسزکی سماعت کے موقع پر آج ملک بھر کی بارز کے عہدے داروں سے یوم سیاہ منانے، بازو پر سیاہ پٹی باندھنے اور باررومز پر سیاہ جھنڈے لہرانے کی درخواست کی گئی ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے موقع پر عدلیہ سے اظہار یکجہتی کیلیے اسلام آباد سپریم کورٹ بلڈنگ میں 2 جولائی کو صبح 11 بجے پہنچ کر کونسل کی کارروائی تک موجود رہیں جس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کے حتمی فیصلے کی روشنی میں ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

ایک بیان میں انھوں نے کہاہے کہ سپریم کورٹ، سندھ اور بلوچستان کی عدالتوں میں گرمیوں کی تعطیلات کے باعث عدالتی بائیکاٹ یا ہڑتال کی کوئی اپیل نہیں کی گئی البتہ پنجاب سمیت کہیں اگر گرمیوں کی تعطیلات نہ ہوں تو وہاں کی صوبائی بارکونسل اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز اپنے حالات کے مطابق متفقہ فیصلہ کرسکتی ہیں تاکہ وکلا اداروں کے تضادات سے مخالفین کو فائدہ اور بعض لوگ ہمارے اصولی موقف کے خلاف سمجھوتہ کرکے منافع بخش دھندے اور اپنی ترقی کا ذریعہ نہ بنائیں۔ دوسری جانب پاکستان بار کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس کے تناظر میںکل(منگل 2 جولائی کو) ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ اتوار کو پی بی سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق منگل کے روز ہی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے جس میں احتجاج سے متعلق آئندہ حکمت عملی پر غور ہو گا۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بارکونسل کے وائس چیئر مین امجد شاہ نے کہاکہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے معاملے پر وکلا میں کوئی اختلاف نہیں، دونوں بڑے وکلا گروپ متحد ہیں، وفاقی حکومت جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے معاملے پر رویہ ٹھیک کرے، وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے درخواست ہے کہ ذاتی مقاصد کیلیے عہدے کا استعمال نہ کریں، اس موقع پر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ و دیگر وکلا بھی موجود تھے۔

انھوں نے کہاکہ اٹارنی جنرل کے پاس اختیار نہیں کہ وہ فروغ نسیم کو بھیجے گئے نوٹس کو معطل کریں، جمہوری اداروں کے ساتھ قانونی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں، فروغ نسیم کو پریکٹس کرنے پر نوٹس دیا گیا مگر وہ پیش نہیں ہوئے ، قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس اجلاس کا اہم ایجنڈا تھا، 2جولائی کو سپریم کورٹ سمیت ملک بھر میں ہڑتال اور احتجاج کیا جائے گا، بلوچستان کے ساتھ وفاق کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ایسا نہ ہوکہ ہم خود سپریم کورٹ جانے سے انکار کردیں۔ فروغ نسیم وزیر ہونے کے بعد پریکٹس نہیں کرسکتے، وہ دو کشتیوں کی سواری کرنا چاہتے ہیں جو قبول نہیں، ملک کو1973کے آئین کے تحت چلایا جائے، صدر اور وفاقی حکومت کوسوچنا چاہیے کہ ملک میں ایسی کیفیت پیدا نہ کریں جس سے جمہوریت کو خطرہ اور اداروں کے درمیان ٹکرائو ہو، جمہوریت کو کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیںگے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کے ترجمان اسلم خٹک ایڈووکیٹ نیایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ کراچی بار متفقہ طور پر سپریم کورٹ اور پاکستان بار کی مشترکہ طور پر اعلان کردہ کل (منگل 2 جولائی) ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے اور 2 جولائی کو عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔

The post ججزریفرنس کی کل سماعت، وکلا برادری کا یوم سیاہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2XHHPVJ

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...