Skip to main content

روسی طالبعلم دوسروں کیلئے خوبصورت دستخط بناکر لاکھوں کمانے لگا

 ماسکو: ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے دستخط (سگنیچر) خوبصورت اور مختلف ہوں۔ اسی ضرورت کے تحت روسی طالب علم نے دستخط تجویز کرنے کی سہولیات پیش کی ہے اور اب وہ لاکھوں میں کھیل رہے ہیں۔

لوگوں کی بڑی تعداد ان کے پاس دستخط ڈیزائن کرانے آتی ہیں اور وہ اس کے لیے رقم وصول کرتے ہیں۔ اپنی آن لائن سروس کے تحت وہ تاجروں، مینیجروں اور دیگر کاروباری اور مشہور شخصیات کے لیے دستخط تیار کرتے ہیں اور لوگ خوش ہوکر اس کے لیے خطیر رقم ادا کرتے ہیں۔

ایوان جب 20 سال کے ہوئے تو انہیں اپنا پاسپورٹ بدلوانے کی ضرورت پیش آئی لیکن وہ اپنے پرانے دستخط سے اکتا چکے تھے اور خوبصورت دستخط کی تلاش میں تھے۔ اس موقع پر خطاطی کی ماہران کی ایک دوست نے ان کے لیے دستخط تیار کرکے دیئے اور اسے بنانے کا طریقہ بھی سکھیا۔ اس کے بعد ایوان کو دستخط تیار کرنے والی کمپنی کھولنے کا خیال آیا۔

اس کے بعد دونوں نے بعض دستخطوں کے نمونے انسٹا گرام پر ڈالے اور چند سو ڈالر کمپنی کی تشہیر میں خرچ کئے ۔ اگلے 12 گھنٹوں میں ان کے پاس پہلا کام آگیا اور کام اتنا بڑھا کہ انہیں ایک اور ڈیزائنرخوش خط کو ملازمت پر رکھنا پڑا۔ اس طرح دسمبر 2018 میں قائم ہونے والی اس کمپنی کی آمدنی اب 30 ہزار ڈالر سالانہ سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ یہاں ایوان کی دوست اینستاسیا کے ساتھ ساتھ مزید کئی خطاط کام کررہے ہیں جو خاص قسم کے آٹوگراف جیسے دستخط بنا کر دیتے ہیں۔

رائٹ ٹائٹ کمپنی کے تحت اب روزانہ تین سے چار آرڈر آرہے ہیں۔ روس کے علاوہ برطانیہ، جرمنی اور امریکا سے بھی لوگوں نے اپنے اپنے نام کے خوبصورت ڈیزائنر دستخط بنوانے کے آرڈر دیئے ہیں۔

The post روسی طالبعلم دوسروں کیلئے خوبصورت دستخط بناکر لاکھوں کمانے لگا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » دلچسپ و عجیب http://bit.ly/2HOcIPJ

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...