Skip to main content

وزیرستان واقعے پر قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی

 اسلام آباد: شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں خار قمر چیک پوسٹ پر جھڑپ اور 13 افراد کی ہلاکت کے واقعے پر قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔

حکومتی ارکان نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور اس کے ارکان اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی اسمبلی رکنیت منسوخ کرنے جبکہ پی ٹی ایم کے حامیوں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔ اس پر حزب اختلاف نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نشستوں سے کھڑے ہو کر احتجاج کیا اور اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا۔

تحریک انصاف کے رکن اسمبلی علی محمد خان کی تقریر پر ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہوئی جبکہ بلاول بھٹو زرداری بھی نشست پر کھڑے ہو گئے اور احتجاج میں حصہ لیا۔

خرم دستگیر نے ایس پی طاہر داوڑ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کے حوالے سے حقائق نہیں بتائے گئے، حکومت بتائے کہ ایک ایس پی کو دو صوبوں سے گزار کرکیسے افغانستان لے جایا گیا، طاہر داوڑ ایک بہادر افسر تھا، حکومت انکے قتل پرخاموش کیوں ہے؟۔

شہریار آفریدی نے جواب دیا کہ پچھلے ادوار میں پختون قوم کو 1979 سے پہلے والی شناخت بتانا ضروری قرار دیا گیا، ہم نے وہ مسائل حل کیے جو سابق حکومتوں میں پختونوں سے روا رکھے گئے، طاہر داوڑ کی لاش این ڈی ایس نے حکومت کی بجائے منظور پشتین کو دی،قومیت کے نام پر یہاں کسی کو دکانداری چمکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، طاہر داوڑ کے قتل کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرائیں،آگاہ کیا جائے گا۔

وزیر مملکت علی محمد خان نے اس معاملے پر جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیٹے کی لاش افغانستان کے پٹھو کے حوالے کی گئی، اس ایوان کے ارکان اسمبلی ریاست پاکستان کو للکارتے ہیں، جن کی وجہ سے فساد پھیلا انہیں ایوان میں رہنے کا کوئی حق نہیں، ان کی رکنیت منسوخ کی جائے، ان کی وجہ سے بے گناہ شہریوں کی لاشیں گریں، ان کے جلسوں میں پاکستانی پرچم کو نہیں جانے دیا جاتا، ایسے لوگوں کو پاکستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

The post وزیرستان واقعے پر قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2WCHoLK

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...