Skip to main content

بلدیہ عظمیٰ کا عوامی مقامات پر 100 باتھ روم، 100 جم اور 500 بس اسٹاپ بنانے کا فیصلہ

کراچی: بلدیہ عظمیٰ کراچی اور کے ایم سی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے اشتراک سے شہریوں کو مفت سہولیات کی فراہمی کے لیے 100 باتھ روم، 100 جم، 500 بس اسٹاپس شیلٹر اور 100 پرانی عمارتوں کی مرمت و تزئین وآرائش اور شہر کے مختلف مقامات پر 10 لاکھ درخت لگائے جائیں گے جس کی منظوری میئر کراچی وسیم اختر نے دے دی ہے۔

کے ایم سی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری بلال منظر نے ممبران مجلس عاملہ کے ہمراہ میئرکراچی وسیم اختر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور ان منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ علاقوں میں 100 آراو پلانٹ نصب کیے جائیں گے جہاں شہریوں کو مفت صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔ ان آراو پلانٹ سے 80 ہزار افراد روزانہ پانی حاصل کرسکیں گے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت شہر میں76لاکھ خواتین روزانہ کام پر جاتی ہیں جن کے لیے کوئی بھی عوامی باتھ روم نہیں ہے، کے ایم سی کی سرپرستی میں کے ایم سی آفیسرز ایسوسی ایشن 100 عوامی باتھ روم تعمیر کرنا چاہتی ہے جن کو روزانہ 8 لاکھ افراد استعمال کرسکیں گے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بس اسٹاپس شیلٹر سے 85 لاکھ افرا د سہولت حاصل کریں گے،100جم میں10لاکھ افراد ایکسر سائز کی سہولت حاصل کریں گے جبکہ 10 لاکھ درخت لگانے کا منصوبہ بھی ہے جسے ملیر اور لیاری ندی کے کناروں اور شہر میں خالی جگہوں پر لگائے جائیں گے۔

بلال منظر نے بتایا کہ شہر کی 100پرانی اور تاریخی عمارتوں کی بحالی اور تزئین وآرائش کا منصوبہ بھی ہے، میئر کی اجازت سے 45دنوں میں منصوبہ پر عمل شروع ہوگا۔

The post بلدیہ عظمیٰ کا عوامی مقامات پر 100 باتھ روم، 100 جم اور 500 بس اسٹاپ بنانے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2J5PkOG

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...