Skip to main content

کہ جیل جانا فقط آرزو کی بات نہیں

برطانیہ کی ایک خاتون کو اس عمر میں جیل جانے کا شوق چَرایا ہے جس عمر میں سب جھیل کر آدمی قبر میں جانے کی سوچ رہا ہوتا ہے۔ محترمہ کی عمر ہے 104سال اور نام ہے اینی بروکن بروہے۔

کیئرہوم میں قیام پذیر ان خاتون سے جب ان کی کوئی ایسی خواہش پوچھی گئی جو پوری نہ ہوئی ہو، تو ان کا جواب تھا،’’میری اتنی عمر ہوگئی ہے اور میں نے آج تک کوئی قانون نہیں توڑا، لیکن میرا دل چاہتا ہے کہ میں جیل جاؤں۔‘‘

انسان کو جو خواہش ہوتی ہے اُس کے حصول کے لیے کوششیں کرتا ہے، تن من دھن کی بازی لگادیتا ہے، مگر ان محترمہ نے اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے ذرا بھی جتن نہیں کیے، ہمیشہ قانون کا احترام کیا اور پھر جیل جانے کی آرزو کرتی رہیں۔ ان بی بی کو کون سمجھائے کہ جیل جانا فقط آرزو کی بات نہیں۔

برطانیہ کا پتا نہیں، لیکن پاکستان میں داخلِ زنداں ہونا وہ واحد معاملہ ہے جہاں غریبوں کو امیروں سے کہیں زیادہ مواقع حاصل ہیں۔

پاکستان می غریب آتے جاتے جیل جاسکتا ہے، اس کی جیل یاترا کے لیے بجلی کا کُنڈا اور بھری ہوئی سگریٹ کا ایک سُٹا لگانا ہی کافی ہے، کسی پولیس والے کو گھور کے دیکھ لینا بھی سلاخوں کے پیچھے پہنچا سکتا ہے، لیکن بے چارے امیر پاکستانی کے لیے یہ ’’مطلوبہ سہولت میسر نہیں۔‘‘ اُسے جیل کی منزل تک پہنچنے کے لیے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے، پہلے سیاست میں آنا پڑتا ہے، پھر مال بنانے کے مواقع حاصل کرنا پڑتے ہیں، قسمت اچھی ہو تو سیاسی کیریر، دولت اور اقتدار دلہن کے جہیز میں آجاتے ہیں، لیکن ایسی ’’بے نظیر‘‘ قسمت کسی کی ہوتی ہے۔

اگر نصیب ایسا زردار نہیں تو مال دار ہونے کے لیے ایمان داری سے مکمل طور پر دست بردار ہوکر پیسہ بنانا پڑتا ہے، اس کے بعد اقتدار میں آنے کا مرحلہ آتا ہے، یہ دراصل جی بھر کے کمانے کا مرحلہ ہوتا ہے، عوام کے پیسے اور اپنے اختیارات کا خوب ناجائز استعمال کرکے بھی جب جیل جانے کی تمنا پوری نہیں ہوتی تو اقتدار جانے کے بعد بھی محروم اقتدار جماعت میں رہ کر اپنی گرفتاری کا سامان کیا جاتا ہے، آخرکار کوئی نہ کوئی عیب نیب کے ہتھے چڑھ جاتا ہے، دن گِنے جاتے تھے جس دن کے لیے وہ دن آتا ہے اور بندہ جیل چلا جاتا ہے۔

پاکستانی سیاست دانوں کے جیل جانے کے شوق کا یہ عالم ہے کہ وہ جیل کو اپنا دوسرا گھر کہتے ہیں۔ مگر جیل اُس وقت تک گھر لگتی ہے جب تک پولیس ’’گھر والی‘‘ بنی رہے، لیکن کبھی کبھی اُن کے ساتھ گھروالی ہوجاتی ہے۔ ہمارے ہاں تو کوئی سیاست داں جیب کاٹنے پر جیل جائے یا گلا کاٹنے پر، بڑے فخر سے کہتا ہے کہ اُس نے جیل کاٹی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جیل میں رہتے ہوئے وہ بس مچھروں کے کاٹنے ہی کی شکایت کرتا رہتا ہے۔

اینی بروکن صاحبہ کی سبق سیکھنے کی عمر گزر گئی ورنہ ہم اُن سے کہتے کہ بی بی! آپ شوق کی تکمیل کے لیے پاکستان کے سیاست دانوں سے سبق سیکھیں۔ لیکن سیکھ بھی لیتیں تو اس سبق پر عمل کے لیے اینی بی بی کو پاکستان آنا پڑتا۔ ویسے وہ پاکستان آجاتیں تو قانون توڑے بغیر بھی جیل کی روٹیاں توڑنے کی خواہش پوری کرسکتی تھیں۔ لیکن اس کے لیے انھیں غریب ہونا پڑتا۔ پھر کسی دن خبر آتی،’’ایک سو چار سالہ خاتون قیدی اینی بروکن نے، جو جرمانے کی رقم نہ ہونے کے باعث پچھتر سال سے قید ہیں، خواہش ظاہر کی ہے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں جیل سے جاؤں۔‘‘

The post کہ جیل جانا فقط آرزو کی بات نہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » دلچسپ و عجیب https://ift.tt/2VeOn9G

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...