Skip to main content

سرحدی علاقے میں بسنے والے بہادر پاکستانیوں کا محفوظ علاقوں میں جانے سے انکار

لاہور:  پاک بھارت کشیدگی کے باوجود لاہورکے سرحدی علاقے میں بسنے والے بہادر اورجفاکش پاکستانی اپنا گھربارچھوڑکر بارڈر سے پیچھے محفوظ علاقوں میں آنے کوتیار نہیں ہیں بلکہ یہاں بسنے والے لوگ فوج کے شانہ بشانہ بھارت سے جنگ لڑنے کوتیار بیٹھے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے مابین جنگی تناؤ اور کشیدگی بڑھنے کی وجہ سے بھارت نے مشرقی پنجاب کے سرحدی علاقے میں ایمرجنسی نافذکرتے ہوئے ریڈالرٹ جاری کیا ہے اور مقامی لوگوں کو علاقے خالی کرنے کا کہا جارہا ہے۔ جب کہ اس کے برعکس پاکستان میں  لاہور، قصور اورسیالکوٹ کے سرحدی علاقوں میں لوگ بلاخوف و خطر زندگی گزاررہے ہیں۔

واہگہ سرحد سے جڑے ٹھٹھہ گاؤں کے رہائشیوں نے بتایا ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ جب جنگ کا خطرہ بڑھتا تو سرحدی علاقے کے دیہات خالی کروالیے جاتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے، ہم کہیں نہیں جائیں گے، ہمارے جوان اور بزرگ تیاربیٹھے ہیں، ہم فوج سے پہلے بھارت کا مقابلہ کرنے کوتیار ہیں۔

چندبزرگ خواتین کا کہنا تھا جنگ اچھی چیز نہیں ہے، وہ لوگ بھارت کے ساتھ لڑی گئی دو جنگیں دیکھ چکے ہیں، مگر اب جنگ اور بھارتی دھمکیوں سے ڈر نہیں لگتا، بھارتی بارڈر گاؤں سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ہے، ہم تو منتظر ہیں ،بھارتی فوج پاکستان میں داخل ہونے کی جرات توکرے اس کا وہ حال کریں گے کہ جسے وہ ہمیشہ یاد رکھے گی۔

اس صورتحال میں جہاں بہت سے لوگ جذباتی ہوکر جواب دے رہے ہیں وہیں بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان اوربھارت کومعاملہ مل بیٹھ کر حل کرنا چاہیے، جنگ صرف تباہی لاتی ہے،یہ وقت جذبات سے نہیں بلکہ ہوش وحواس سے کام لینے کا ہے۔

واضع رہے کہ پاک بھارت بارڈر کے قریب لاہور سیکٹر میں 84 سے زیادہ چھوٹے بڑے پاکستانی دیہات ہیں جہاں لوگ معمول کے مطابق زندگی گزاررہے ہیں۔

The post سرحدی علاقے میں بسنے والے بہادر پاکستانیوں کا محفوظ علاقوں میں جانے سے انکار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2UbyPmX

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...