Skip to main content

بھارتی شخصیات کا عمران خان کے پائلٹ کی رہائی کے فیصلے کا خیرمقدم

 اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے اعلان کا بھارتی سیاست دانوں اور کشمیری قیادت کے ساتھ دنیا بھر کی معتبر شخصیات نے خیر مقدم کیا ہے۔

ایکسپریس کے مطابق عمران خان کی جانب سے گرفتار بھارتی پائلٹ “ابھے نندن ” کو بھارت کے حوالے کرنے کے اعلان کی عالمی سطح پر زبردست پذیرائی ہوئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا اعلان سنتے ہی بھارتی سیاست دان نوجوت سدھو خوشی سے کھل اٹھے۔ انہوں نے کہا کہ ہر اچھا قدم اپنا راستہ خود نکالتا ہے، پاکستانی وزیراعظم کے خیر سگالی اقدام سے پائلٹ کے گھر والوں سمیت پورے بھارتی عوام کو بے پناہ خوشی ملی ہے۔

بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے بھی عمران خان کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم کا اقدام خیر سگالی کی طرف مثبت قدم ہے۔

بھارتی خاتون صحافی برکھا دت نے کہا کہ یہ انڈین ٹی وی اینکرز کی بے وقوفانہ باتوں کا وقت نہیں، پاکستانی وزیر اعظم کے فیصلے سے کشیدگی کم ہوگی اور ہمیں اس فیصلے کو سراہنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا خیر سگالی کے طور پر بھارتی پائلٹ کو کل رہا کرنے کا اعلان

کشمیری قیادت نے بھی پاکستانی کپتان کے فیصلے کوامن کے لیے خوش آئند قرار دیا، میر واعظ عمر فاروق نے ٹوئٹ میں امید ظاہر کی کہ اب جنگ کے منڈلاتے بادل چھٹ جائیں گے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے دروازے بھی کھلیں گے۔

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی اس اقدام پر عمران خان کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بہترین لیڈر شپ کا مظاہرہ کیا اب وقت آگیا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت بھی ماحول کو سازگار بنانے کے لیے اقدام کرے۔

سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ جارج گیلوے بھی وزیراعظم پاکستان کے معترف نکلے اور انہوں نے اقدام کو کپتان کی بہترین اننگز قرار دیا۔

The post بھارتی شخصیات کا عمران خان کے پائلٹ کی رہائی کے فیصلے کا خیرمقدم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2EoA5fP

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...