Skip to main content

بھارتی فوج پاکستانی طیارہ گرانے کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام

نئی دہلی: بھارتی مسلح افواج پاکستانی ایف سولہ طیارہ گرانے کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکی اور اسے پریس کانفرنس میں سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کے ہاتھوں دو طیارے تباہ ہونے کے بعد بھارتی مسلح افواج کے اعلیٰ افسر بوکھلائے ہوئے نظر آئے اور حالیہ کشیدگی کے کئی روز بعد بھارتی فورسز نے نئی دہلی میں میڈیا کو بریفنگ دینے کا حوصلہ کر ہی لیا۔ بریفنگ میں بھارتی آرمی، ائیر فورس اور نیوی کے افسر پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے۔

بھارتی اسسٹنٹ چیف آف ائیرسٹاف آر جی کے کپور اپنے ہی میڈیا کے سوالات پر ٹھوس جوابات دینے میں ناکام رہے۔ بھارت پاکستان میں 350 افراد مارنے کا ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا لیکن جب صحافی نے یہ سوال اپنے افسر سے پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ انہیں نہیں معلوم کتنے لوگ مارے گئے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں یقین ہے کہ انہوں نے دہشت گرد تنظیم کے مبینہ ٹھکانے تباہ کر دئیے تو ان کے پاس اس کا بھی کوئی واضح جواب نہیں تھا۔ وہ صرف یہ کہہ کر آگے بڑھ گئے کہ جو بھی ان کا ہدف تھا اسے پورا کرلیا گیا ہے۔ ایک صحافی نے پاکستان میں حملے کا ویڈیو ثبوت مانگا تو ان کا جواب تھا کہ ان کے پاس حملے کی ویڈیو موجود نہیں۔

بھارتی پائلٹ کی گرفتاری پر ان کا کہنا تھا کہ پیراشوٹ کی سمت غلط ہونے کے باعث پائلٹ پاکستان میں جا گرا لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جہاز کس طرح تباہ ہونے کے بعد پاکستانی حدود میں آ گرا۔

بھارتی افسروں نے بار بار پاکستانی ایف سولہ مار گرانے کا دعویٰ کیا اور جب ثبوت دکھانے کی باری آئی تو چلے ہوئے میزائل کا ٹکڑا پکڑ کر دکھا دیا۔

پاکستان کی جانب سے پائلٹ کی رہائی پر ان کا کہنا تھا کہ اس پر انہیں بے حد خوشی ہے تاہم انہوں نے پاکستان کے جذبے کو سراہے بغیر کہا کہ پائلٹ کو جنیوا کنونشن کے تحت رہا کیا جائے گا۔

The post بھارتی فوج پاکستانی طیارہ گرانے کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/2VrvGiO

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...