Skip to main content

عدالت نے ملزمان کو فائدہ پہنچانے پر تفتیشی افسر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

کراچی: اغوا برائے تاوان کے سنگین مقدمے میں تفتیشی افسر نے مدعی اور اغوا کاروں کے مابین موبائل ڈیٹا کو اہمیت ہی نہیں دی جب کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ملزمان کو فائدہ پہنچانے پر ایکشن لیتے ہوئے تفتیشی افسر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

کراچی سینٹرل جیل کے انسداد دہشت گردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت نے اغوا ہونے والے 7 سالہ طفیل عبد الرحمن کے مقدمے کا فیصلہ رواں ماہ کی 2 تاریخ کو سنایا ناقص تفتیش کی وجہ سے ملزمان بری ہوگئے، اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں پولیس کی روایتی تفتیش اور ملزمان کو فائدہ پہنچانے پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 16 کے جج نے تفتیشی افسر محمد اسماعیل کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔

جاری شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کیوں نہ تفتیشی افسر کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے، عدالت نے واضح کیا کہ دہشت گردی ایکٹ میں ناقص تفتیش پر 2 سال کی سزا ہے شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ناقص تفتیش کا فائدہ اغواکاروں کو ہوا، ملزمان پرویز علی عرف پارو اور عبدالشکور مشکوک تفتیش پر بری ہوئے۔

عدالت نے واضح کیا کہ تفتیشی افسر نے مدعی اور اغوا کاروں کے مابین موبائل ڈیٹا کو اہمیت نہیں دی، ملزمان اور مدعی کے موبائل ڈیٹا کو لیبارٹری نہ بھیج غفلت برتی گئی، تفتیشی افسر نے ایک ملزم عبدالشکورکی شناخت پریڈ نہیں کرائی، اغواکاروں کا ساتھی نثار احمد نہیں پکڑا گیا۔

ملزم پرویز علی عرف پارو مغوی کے والد سے 29 دسمبر 2017 سے 20 جنوری 2018 تک رابطے میں تھا، ملزم نے رابطہ گھوٹکی اور سکھر سے کیا جس کا ثبوت سی ڈی آڑ میں موجود ہے، 23 دنوں تک ملزم نے مغوی بچے کا والد کا اغوا کاروں سے رابطہ رہا لیکن پولیس نے ملزمان پکڑنے کی کوشش نہیں کی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو گمراہ کیا اور بیان دیا کہ مغوی کو بندانی گوٹھ سندھ گورنمنٹ اسکول کے قریب ہاکس بے روڈ کے ایک مکان سے بازیاب کرایا اور ملزمان کو گرفتار کیا لیکن متعلقہ تھانے میں انٹری تک نہ کی مغوی بچے نے بیان میں کہا وہ ٹرین میں اپنے والد کے ساتھ آیا جس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ بچہ کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کراچی سے نہیں ہوئی۔

شوکاز نوٹس میں عدالت نے استفسار کیا ہے کہ کیا اس مکان سے متعلق کوئی تحقیقات کی گئیں کہ مالک مکان کون ہے اس کا اغوا کاروں سے کیا لینا دینا ہے ملزمان جن اشخاص کی موبائل سمیں استعمال کررہے تھے وہ کون تھے اس حوالے سے بھی تفتیشی افسر نے کسی قسم کی کوئی تحقیقات کرنے کی کوشش تک نہیں کی، تفتیشی افسر نے جواب کے لیے مزید مہلت دینے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

 

The post عدالت نے ملزمان کو فائدہ پہنچانے پر تفتیشی افسر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2EEvAiw

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...