Skip to main content

میٹرک اور انٹر کے امتحان کُھلے میدانوں کے بجائے اسکول گراؤنڈ میں کرانے کا فیصلہ

 کراچی: سندھ میں میٹرک اور انٹر کی سطح پر نقل کے خاتمے کیلیے امتحانات کھلے میدانوں میں لینے کے معاملے پرصوبے کے تمام تعلیمی بورڈزکے سربراہوں کا اجلاس بدھ کومیٹرک بورڈ کراچی میں منعقد ہوا۔

جس میں صوبائی وزیرتعلیم سردارعلی شاہ کی تجویزاور اسٹیرنگ کمیٹی کی فیصلے کی روشنی میں میٹرک اورانٹرکے امتحانات کھلے میدانوں میں منعقد کرانے کے معاملے پر تفصیلی غورکے بعد فیصلہ کیاگیاہے کہ محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کے فیصلے کے تحت یہ امتحانات کھلے میدانوں میں ہی کرائے جائیں گے تاہم اس کے لیے شہروں میں موجود میونسپل کارپوریشنز کے میدانوں کے بجائے تعلیمی اداروں کی حدود میں موجود میدانوں کااستعمال کیاجائے گااورچونکہ امتحانات کے انعقاد میں ڈیڑھ ماہ کاعرصہ باقی رہ جانے کے سبب اب فرنیچرکے ٹینڈرکااجرا ممکن نہیں رہاہے لہٰذارواں سال میٹرک اورانٹر کے امتحانات آزمائشی طورپرکھلے میدانوں میں کرائے جائیں گے اورچونکہ ٹینڈر نہ ہونے کے سبب مکمل طورپریہ امتحانات کھلے میدانوں میں نہیں ہوسکتے۔

لہٰذا نمونے کے طورپرکچھ امتحانات مراکزتعلیمی اداروں کے میدانوں میں بنائے جائیں گے جبکہ کھلے میدانوں میں امتحانات کے انعقاد کے سلسلے میں جواضافی اخراجات آرہے ہیں،اس کے لیے محکمہ اسکول ایجوکیشن اورکالج ایجوکیشن سے فنڈز مانگے جائیں گے، اس بات کا فیصلہ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹرسعیدالدین کی زیرصدارت سندھ کے تعلیمی بورڈزکے چیئرمینزکے اجلاس میں کیا گیا جبکہ سندھ کے تعلیمی بورڈز کے ناظمین امتحانات کاایک علیحدہ اجلاس میٹرک بورڈ کراچی کے قائم مقام کنٹرولرخالد احسان کی میزبانی میں ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں منعقدہواجس میں کھلے میدانوں میں امتحانات کے انعقاد کے انتظامات کاجائزہ لیاگیادونوں اجلاسوں کی روداد (منٹس)آج جمعرات کو محکمہ اسکول ایجوکیشن کو بھجوادیے جائیں گے۔

اجلاس میں چیئرمین میٹرک بورڈ کی زیر صدارت منعقدہ اس اجلاس میں انٹر بورڈ کراچی کے چیئرمین پروفیسر انعام احمد، ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ حیدرآباد کے چیئرمین محمد میمن، ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ میرپورخاص کے چیئرمین برکات حیدری،ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ لاڑکانہ کے چیئرمین احمد علی بروہی ، ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ سکھرکے چیئرمین مجتبیٰ شاہ اورسندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مسرورشیخ شریک ہوئے اجلاس میں بلدیہ عظمیٰ یابلدیہ عالیہ(میونسپل کارپوریشنزیاڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز)  کے میدانوں میں میٹرک اورانٹرکے امتحانات کے انعقادکے حوالے سے سیکیورٹی معاملات پر کھل کربات کی گئی اورکہاگیاکہ اگریہ امتحانات میونسپل کارپوریشنزکے ماتحت آنے والے کھلے میدانوں میں کرائے جائیںگے تواس سلسلے میں دن کے اوقات میں امتحانات دینے کے لیے آنے والے طلبہ کی سیکیورٹی کرنی ہوگی جبکہ رات کے وقت امتحانات کے انعقادکے سلسلے میں وہاں موجودانفرااسٹرکچر(ٹینٹ ، کرسیاں، میزیں ودیگرفرنیچر)کے ساتھ سیکیورٹی کیمروں کی محفاظت کی ذمے داری بھی عائد ہوگی جس کے لیے علیحدہ سے سندھ پولیس کا اضافی تعاون درکارہوگاجبکہ میونسپل کارپوریشنز کے تحت موجودکھلے میدانوں میں بیت الخلا کے معقول انتظامات بھی موجودنہیں۔

جس سے طلبہ کو دشواری پیش آسکتی ہے تاہم اگر یہ امتحانات اسکولوں اور کالجوں کے کھلے میدانوں میں کرائے جاتے ہیں تو چار دیواری کے اندرہونے کے سبب وہاں موجود انفرااسٹرکچر کی حفاظت قدرے آسان ہوگی لہذایہ امتحانات تعلیمی اداروں ( اسکولوں اورکالجوں )کے میدانوں میں کرائے جائیں جس سے ایک جانب نقل کی روک تھام کے عملی اقدام ہوسکیں گے،دوسری جانب انتظامات کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی مشکل نہیں رہے گی اجلاس میں تعلیمی اداروں کے کھلے میدانوں میں امتحانات کے انعقاد کے سلسلے میں انفرااسٹرکچرکی مد میں آنے والے کروڑوں روپے کے اضافی اخراجات کابھی جائزہ لیاگیاجس کے بعدیہ طے کیاگیاکہ چونکہ صوبائی وزیرتعلیم سردارعلی شاہ نے اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں اضافی اخراجات کے سلسلے میں بورڈز انتظامیہ کومالی تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی، محکمے سے اضافی اخراجات کی مد خرچ ہونے والی رقم کے سلسلے میں تعاون کی درخواست بھی کی جائے گی، نقل کے خاتمے کے لیے کھلے میدانوں میں امتحانات کا انعقاد ممکن ہوسکے، واضح رہے کہ صوبائی محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کے فیصلے کے تحت سندھ بھرمیں میٹرک کے سالانہ امتحانات 20مارچ جبکہ انٹرکے امتحانات 5اپریل سے شروع ہونے ہیں ۔

The post میٹرک اور انٹر کے امتحان کُھلے میدانوں کے بجائے اسکول گراؤنڈ میں کرانے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2G0jNNs

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...