Skip to main content

خیبر پختونخوا میں کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ نام تک محدود

پشاور: خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت دوسال گزرجانے کے باوجود  کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ کے قوانین متعین نہ کرسکی۔

صوبائی دارالحکومت سمیت خیبر پختونخوا کے بڑے شہروں کے  مصروف چوراہوں میں بھیک مانگنے، مستری خانوں اور  گندگی کے ڈھیر میں رزق کی تلاش میں  سرگرداں 5 سے 16 سال تک کے بچوں بچیوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہونے لگا ہے لیکن دو سال گزر جانے کے باوجود صوبائی حکومت کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ کے قوانین متعین نہ کر سکی۔

2016 میں سابق صوبائی حکومت نے 18 ترمیم کی روشنی میں صوبے میں 5 سال سے 16 سال تک کے بچوں کی تعلیم حکومت وقت پر لازمی اور مفت قرار دئے جانے کی غرض سے صوبائی اسمبلی سے کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ منظور کرایا جس کا مقصد یہی تھا کے صوبے میں اسکول نا پڑھنے والے 5 سے 16 سال تک کے بچوں کو حکومت مفت اور لازمی تعلیمی سہولیات فراہم کرے گی اور ان بچوں سے بھیک منگوانے یا مزدوری کروانے والے والدین کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ کو منظور ہوئے اب 2 سال گزر چکے ہیں مگر تاحال صوبائی حکومت اس ایکٹ کی روشنی میں قوانین نہیں بناسکی۔ محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کے اسپیشل سیکریٹری نے بتایا کہ قانونی مسودے کو محکمہ قانون خیبر پختونخوا ارسال کیا جا چکا ہے جیسے ہی اس کی منظوری آئے گی ایکٹ پر عمل در آمد شروع ہو گا۔

محکمہ تعلیم کی طرف سے 2017 میں 25 کروڑ روپے کے فنڈز سے 40 ہزار اساتذہ سے صوبے بھر میں اسکول نا جانے والے 5 سے 10 اور 11 سے 16 سال کے بچوں کے حوالے سے سروے کرایا گیا، جس میں یہ رپورٹ پیش کی گئی ہے کہ 5 سے 10 سال کی عمر کے اسکول نا جانے والے بچوں کی تعداد 9 لاکھ ہے جب کہ 11 سے 16 سال کے بچوں کی تعداد 7 لاکھ ہے مگر حال ہی میں ایک غیر ملکی این جی او نے اپنے سروے میں محکمہ تعلیم کو رپورٹ پیش کی ہے کہ صوبے میں 5 سے 16 سال تک اسکول نا جانے والے بچوں کی تعداد 25 لاکھ ہے۔

The post خیبر پختونخوا میں کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ نام تک محدود appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2Uwn0aI

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...