Skip to main content

سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے درخواست دائر

لاہور: سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کے سربراہ اظہر صدیق نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ساہیوال واقعے کی تحقیقات کے لیے ضروری ہے کہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو چٹھی لکھی لیکن بے سود رہی۔ اس طرح کے واقعے کی تحقیقات کے لیے پنجاب ٹربیونل انکوائری آرڈیننس 1969 موجود ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ سانحے کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب نے سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ مسترد کردیا

واضح رہے کہ گزشتہ روز سانحہ ساہیوال میں جاں بحق افراد کے لواحقین اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف درج دہشت گردی و قتل کیس کے مدعی نے بھی واقعے کی جے آئی ٹی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: سانحہ ساہیوال متاثرین نے جے آئی ٹی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردی

سانحہ ساہیوال کا پس منظر؛

19 جنوری کی سہہ پہر سی ٹی ڈی نے لاہور سے آنے والی ایک کار پر فائرنگ کرکے اس میں موجود 4 افراد کو قتل جب کہ 3 بچوں کو زخمی کردیا تھا، ابتدا میں کارروائی کو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن قرار دیا گیا لیکن زخمی بچے کے بیان سے راز فاش ہوا کہ کارروائی یک طرفہ تھی، بعد ازاں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مارے جانے والوں میں سے ایک کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔

دوسری جانب ساہیوال واقعے میں گرفتار سی ٹی ڈی اہلکار دوران تفتیش گاڑی پر فائرنگ کے بیان سے پھرگئے اور جے آئی ٹی کو بیان میں کہا کہ کار پر فائرنگ ہم نے نہیں کی۔

The post سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے درخواست دائر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://bit.ly/2G2BdsO

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...