Skip to main content

پاکستان کی سوچ مثبت ہے لیکن بھارت اپنی سوچ نہیں بدل رہا، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دو ایٹمی قوتوں کی حامل ریاستیں جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتیں، پاکستان کی سوچ مثبت ہے بھارت کو بھی اپنی سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں بھارتی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ  پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور امن ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، پہلےہی دن کہا تھا کہ بھارت ایک قدم بڑھائے ہم دوقدم بڑھائیں گے، پاکستان ،بھارت کے درمیان مسائل عوام میں نہیں حکومتوں میں ہیں، کرتار پور راہداری کھلنے سے سکھ برادری خوش ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: ڈالرز کی کمی کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی آئی

عمران کا کہنا تھا کہ فرانس اور جرمنی میں تجارت کھلنے سے وہاں کےعوام کی زندگی بہتر ہوئی، یورپی یونین میں شامل ہونے کے بعد ان تمام ممالک میں معیارِ زندگی بلند ہوا، برصغیر میں بھی اس طرح سے عوام کا معیار زندگی بہتر کیا جاسکتا ہے۔ میرا ایمان ہے دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں، مسئلہ کشمیر بھی حل کیا جا سکتا ہے، مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان حل طلب تنازع ہے۔

انہوں نے  کہا کہ ہم کوشش کرتے رہیں گے کہ مذاکرات سے مسائل حل کریں، دو ایٹمی قوتوں کی حامل ریاستیں جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتیں، پاکستان کی سوچ مثبت ہے بھارت کو بھی اپنی سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبرکو بھی پڑھیں: کشمیری اپنے خون سے تاریخ لکھ رہے ہیں

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث پاکستان نے بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا، امریکا افغانستان میں اپنی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا رہا ہے،  امریکا کا الزام تھا کہ افغانستان میں جنگ اس لیے نہیں جیت سکے کہ پاکستان سےعسکریت پسند آتےہیں،  ہم اس الزام کو مسترد کرتے ہیں اور پاک افغان سرحد پر باڑ لگارہے ہیں تاکہ آئندہ کوئی جواز پیدا نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے مفاد میں بھی نہیں ہے کہ کسی ملک کے خلاف ہماری سرزمین استعمال ہو، اب ہم پاکستان میں کسی مسلح گروہ کو آپریٹ نہیں کرنے دیں گے، خطےمیں کسی بھی قسم کی دہشت گردی پاکستان کےمفاد میں نہیں۔

The post پاکستان کی سوچ مثبت ہے لیکن بھارت اپنی سوچ نہیں بدل رہا، وزیراعظم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Rurz4h

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...