Skip to main content

سپریم کورٹ نے آبادی میں اضافہ روکنے کی سفارشات حکومت کو بھیج دیں

 اسلام آباد:  سپریم کورٹ نے آبادی میں اضافہ روکنے کیلیے عدالتی کمیٹی کی سفارشات حکومت کو بھجوا دی ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے آبادی میں اضافہ روکنے کیلیے سفارشات میں وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی سربراہی میں ٹاسک فورسزکی تشکیل، دس ارب کے فنڈز دینے،لیڈی ہیلتھ ورکرزکو خاندانی منصوبہ بندی اورزچگی سے متعلق ترجیحی بنیادوں پر معلومات فراہمی شامل ہے۔ٹاسک فورسز میں وفاقی اور صوبائی وزرائے صحت، تعلیم ، خزانہ ،آبادی کے وزرا اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل کرنیکا کہا گیا۔

سفارشات میں کہا گیا کہ خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی خدمات تک سب کو یکساں رسائی یقینی بنائی جائے ۔ فیملی پلاننگ کی خدمات تمام اداروں میں لائی جائیں اورتمام نجی اہسپتالوں میں بھی مشاورت فراہمی کو یقینی بنایا جائے، مردوں کی رہنمائی کیلیے مرد موبلائزرزکے کیڈرکو فعال کرنیکا بھی کہا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کو سالانہ 10ارب روپے کا فنڈ مختص کرنے کیساتھ ساتھ وفاقی اورصوبائی حکومتوں کو خاندانی منصوبہ بندی کا بجٹ دگنا کرنیکی سفارش کی ہے ،سپریم کورٹ نے پشاورہائیکورٹ کوکیلاش قبیلے کی جائیدادوں پر قبضے سے متعلق کیس کا ایک ماہ میں فیصلے کا حکم دیتے از خود نوٹس کیس نمٹادیا،چیف جسٹس نے کہا اقلیتوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ہمارے دین میں اقلیتوں کے بارے میں خاص احکامات ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں فل بینچ نے سماعت کی ۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کیلاش قبیلے کی چراہ گاہ کی زمین پر قبضہ کی شکایت ہے۔مقامی ایم پی اے نے بتایا کیلاش برداری پر مذہب تبدیلی کا کوئی دباؤ نہیں،کیلاش قبیلے کی تعداد 4500 ہو چکی ہے۔

چیف جسٹس نے سماعت ختم ہونے کے بعد مقامی ایم پی اے کے ذریعے کیلاش قبیلے کو سلام بھیجا۔سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو سروسز اہسپتال لاہورمیں لفٹس لگانے کے معاملے کی نگرانی کی ہدایت کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔

The post سپریم کورٹ نے آبادی میں اضافہ روکنے کی سفارشات حکومت کو بھیج دیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2CXb4JB

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...