Skip to main content

عمران خان سب سے پہلے اپنا گھر قانون کے دھارے میں لائیں، چیف جسٹس

 اسلام آباد: بنی گالہ تجاوزات کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ عمران خان سب سے پہلے اپنا گھر قانون کے دھارے میں لائیں اور سب سے پہلا جرمانہ بھی انہیں کو ادا کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنی گالہ تجاوزات کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سروے آف پاکستان نے کورنگ نالہ کا سروے کرکے رپورٹ دی ہے، کورنگ نالے پر لوگوں نے تجاوزات قائم کر رکھی ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ نالے سے تجاوزات ختم کس نے کرنا ہے، عمران خان اس وقت وزیراعظم ہیں جب کہ عمران خان نے اسی عدالت عظمی کو خط لکھ کر معاملہ پر نوٹس لینے کی استدعا کی تھی، نوٹس لینے پر معلوم ہوا کہ بنی گالہ میں تجاوزات کی بھرمار ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : بنی گالہ اراضی کےلیے جمائما کو ادائیگی کا ریکارڈ طلب

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ علاقہ کا گندہ پانی راول ڈیم میں جا رہا ہے، وزیراعظم اپنا گھر بھی ریگولر کریں اور دوسروں کے بھی کرائیں، جو قانونی جرمانہ ادا کرنا چاہیے وہ کیا جائے، واضح کیا تھا نالے کی حدود میں گھر مسمار کردیں گے جب کہ بنی گالہ کے حوالے سے جو کرنا ہے، حکومت فیصلہ کرے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ عمران خان بطور درخواست گزار عدالت آئے تھے اور آج وزیراعظم ہیں، عمران خان نے بنی گالہ تعمیرات کے حوالے سے کیا اقدامات کیے، عمران خان کے اپنے گھر کے این او سی کا بھی تنازع تھا، عمران خان سب سے پہلے اپنا گھر قانون کے دھارے میں لائیں اور سب سے پہلا جرمانہ عمران خان کو ادا کرنا ہوگا۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : بنی گالہ میں عمران خان کے گھر کی تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیدیا گیا

عمران خان کے وکیل بابراعوان نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم بنی گالہ کے حوالے سے تین اجلاس منعقد کر چکے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ جمعہ تک آگاہ کریں بنی گالہ کے حوالے سے کیا فیصلہ کیا گیا، رواں ہفتے ہی حکم جاری کرکے کیس نمٹا دیں گے۔ عدالت نے کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔

The post عمران خان سب سے پہلے اپنا گھر قانون کے دھارے میں لائیں، چیف جسٹس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2DJT5Is

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...