Skip to main content

سندھ کے چند کتب خانے

یہاں 1872ء میں ایک ’’حیدرآباد جنرل لائبریری‘‘یورپی اور اینگلو انڈین لوگوں کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اس کے اخراجات میونسپلٹی کی امداد اور چندوں سے پورے کیے جاتے تھے۔ میونسپلٹی120 روپیہ کے علاوہ سولہ روپیہ مٹی کے تیل کے لیے بھی دیتی تھی۔ 1920ء میں یہاں جملہ مضامین کی تقریباً سات ہزار کتابیں تھیں۔ لائبریری سے متعلق ایک دارالمطالعہ بھی تھا۔

’’نیٹو جنرل لائبریری ‘‘ حیدرآباد میں 1888ء میں قائم ہوئی تھی۔ اس کو 1920ء میں وکٹوریہ جنرل لائبریری کہا جاتا تھا۔ اس کے ذخائر کے متعلق یہ بیان کیاگیا ہے کہ یہاں مختلف مضامین کی 1400 کتابیں تھیں جن میں سندھی، فارسی اور سنسکرت زبانوں کی کتابیں شامل تھیں۔ ایک دارالمطالعہ بھی تھا۔ اسے میونسپلٹی سے چار سو بیس روپیہ سالانہ کی امداد کے علاوہ پچاس روپیہ مٹی کے تیل کے لیے بھی ملتے تھے۔

حیدرآباد میں جو کتب خانے قائم ہوئے ان میں کتب خانہ ’’شمس العلما مرزا قلیج بیگ‘‘ کی بھی تعریف کی گئی ہے۔ اس میں عربی، فارسی، ترکی اور سندھی کتابوں کے ذخائر موجود ہیں۔ ضلع حیدرآباد کے قصبہ پیر جھنڈا میں ’’کتب خانہ پیر رشد اللہ راشدی‘‘ کو قابل دیدکہا جاتا ہے۔ پیر صاحب کے متعلق لکھا ہے کہ ’’انہوں نے اس کتب خانہ پر بے پناہ روپیہ خرچ کیا۔ لندن کی لائبریری انڈیا آفس سے کتابوں کی فوٹو کاپیاں منگوائیں، ترکی اور مصر کے کتب خانوں سے نایاب کتابوں کی نقل اپنے خرچ پر کاتب بھیج کر کرائیں۔‘‘

مولانا عبیداللہ سندھی نے بھی اس کتب خانے سے استفادہ کیا تھا۔ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’پیر صاحب کے پاس علومِ دینیہ کا بے نظیر کتب خانہ تھا۔ میں دورانِ مطالعہ وہاں جاتا رہا اور کتابیں مستعار بھی لاتا رہا۔ میری تکمیلِ مطالعہ میں اس کتب خانہ کے فیض کو بڑا دخل تھا۔‘‘

ان کے علاوہ اور بھی کتب خانوں کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً ’’کتب خانہ لواری شریف‘‘ ضلع حیدرآباد میں ہے۔ اس ضلع کے قصبات ٹنڈو سائیذاد میں ’’کتب خانہ خواجہ محمد حسین فاروقی مجددی‘‘ ٹنڈو میر نور محمد میں ’’کتب خانہ میر نور محمد‘‘مٹیاری میں ’’کتب خانہ پیر غلام محمد سرہندی‘‘ ہالا میں ’’کتب خانہ مخدوم مولانا غلام حیدر‘‘ ہیں۔ ان میں مخطوطات، نوادرات اور مطبوعات کے عمدہ ذخائر جمع ہیں۔

( ’’اسلامی کتب خانے‘‘ محمد زبیر (علی گڑھ) کی کتاب ہے جس میں انہوں نے حیدرآباد (سندھ) کے کتب خانوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ یہ سطور اسی کتاب سے لی گئی ہیں)

The post سندھ کے چند کتب خانے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2C7lGGS

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...