Skip to main content

کالجز کے طلبا نے شہریوں میں مفت پانی کے ٹینکر فراہم کرنا شروع کر دیے

 کراچی: کراچی میں پانی کی قلت و عدم فراہمی کو دورکرنے کے لیے نوجوان طالبعلم میدان میں آگئے ،مختلف کالجز میں زیر تعلیم طالبعلموں نے گلشن معمار کے مختلف علاقوں میں 8000 گیلن پانی کا ٹینکر غریب اور مستحق افراد میں تقسیم کیا۔

کراچی کے علاقے گلشن معمار کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر کالجز کے طالبعلموں نے مل کر پیسے جمع کیے اور 8000 گیلن پانی کا ٹینکر خرید کر غریب اور مستحق افراد میں تقسیم کیا،نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا یہ گروپ گزشتہ 5 سالوں سے کراچی کے مضافاتی علاقوں میں جاکر مستحقین کی مدد کررہا ہے۔

اس موقع پر گروپ ممبران کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں عوام کو پانی کی قلت کا سامنا ہے،ہماری یہ کوشش ہے کہ ان افراد میں پانی کے ٹینکر تقسیم کریں جو غریب اور مستحق ہیں اور پیسوں سے پانی خرید کر استعمال نہیں کرسکتے۔ عوام کی کوششوں سے پورے ملک میں نہیں تو کم از کم کراچی میں اس مسئلے کو کافی حد تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تمام شہریوں کو آگے آنا ہوگا اور اس طرح کے عملی اقدامات کرکے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،ہم ایک ماہ میں 2 مرتبہ ان علاقوں میں جاکر پانی تقسیم کرتے ہیں جہاں شہری پانی سے محروم ہیں، ہماری اس کاوش کا مقصد کراچی سے قلت آب، غریب اور مستحق عوام کی پانی سے محرومی دور کرنا اور ان میں خوشیاں بانٹنا ہے جبکہ ان علاقوں میں ضرورت مند اور مستحق افراد کا ایکسپریس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انکے پاس نہ رہنے کے لیے زمین ہے،نہ بجلی ہے اور اب پانی سے بھی محروم ہیں،حکومت سے اپیل ہے کہ ہمیں پانی فراہم کریں،پیسوں سے پانی خرید کر استعمال کرنے کی ساکت نہیں رکھتے۔

قبل ازیں پانی کا ٹینکر علاقوں میں پہنچتے ہی بچے،بڑے اور خواتین سب ہی پانی بھرنے کے لیے گھر سے بالٹیاں،بوتلیں اور دیگر برتن لے آئے،کچھ خواتین پانی بھرتے ہی استعمال شدہ برتن مانجھنے بیٹھ گئیں،علاوہ ازیں نوجوان طالبعلموں کے اس گروپ نے چھوٹے چھوٹے غریب بچوں میں اشیائے خورونوش بھی تقسیم کی۔

The post کالجز کے طلبا نے شہریوں میں مفت پانی کے ٹینکر فراہم کرنا شروع کر دیے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Nwt3bT

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...