Skip to main content

بچیوں کے جعلی خودمختاری سرٹیفکیٹ جاری کیے جانے لگے

 کراچی: سٹی کورٹ کے اطراف جعلی نکاح خواہوں کی بھر مار ہو گئی، نکاح خواں کم عمر بچیوں کے اغوا میں ملوث ملزمان کو مکمل تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

نکاح خواں کم عمر بچیوں کے نکاح فارم پر پیدائش کی تاریخ بڑھا کراندراج اور وفات پانے والے اعزازی مجسٹریٹ سابق جسٹس آف پیس کی جعلی مہریں لگاکر بچیوں کے خود مختاری ( فری ویل) جاری کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے کم عمر بچیوں کے اغواکے مقدمات میں ملوث ملزمان کو پولیس گرفتار کرنے میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہے والدین اپنی بچیوں کی باز یابی کیلیے دھکے کھانے پر مجبور ہیں کوئی سنوائی نہیں ہوتی اور تھانہ رسالہ نے جعلی نکاح خواہوں کے خلاف کبھی بھی کوئی کارروائی نہیں کی۔

نکاح خواں بھاری رقم حاصل کرنے 11,12 سالہ بچی کی عمر نکاح فارم میں 19/20 سال درج کی گئی، اہم انکشاف عدالت میں دائر درخواست میں ہوا ہے ،ماہر قانون حق نواز کے مطابق اس کے موکل ٹیپوسلطان کی حدود کے رہائشی محمد اخترکی 11/12 سالہ بیٹی کائنات زہرہ عرف ثنا 26جولائی کو اغوا ہوئی، بروقت درخواست تھانہ ٹیپو سلطان میں دائر کی لیکن پولیس نے کوئی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا بعدازاں حصول انصاف کے لیے عدالت سے رجوع کیا جس پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے تھانہ ٹیپو سلطان کو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

مدعی مقدمہ درج کرانے تھانے گیا تو پولیس نے اسے بچی کا نکاح نامہ اور خودمختاری تھمادی اور کہا کہ اس کی بیٹی نے نکاح کر لیا، ہم کچھ نہیں کر سکتے، نکاح نامہ جانچ پڑتال کیا جس میں اس کی بیٹی کی عمر 11 سال کی بجائے19سال لکھی ہوئی تھی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ میرے موکل مدعی اختر کی شادی کو17 ہی سال ہوئے ہیں،عدالت میں مزید انکشاف کیا کہ ملزمان نے بچی کے اغواکے بعد پاک کالونی کے علاقے یوسی آفس سے ایک اور پیدائشی سرٹیفکیٹ حاصل کیا جس میں نکاح سے پہلے ہی بچی کو اپنی بیوی ظاہر کیاگیا،اس انکشاف پر عدالت نے سخت نوٹس لیا اور فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

پولیس نے عدالت کے حکم پر ملزمان عامر حسین، مرید حسین اور اس کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا لیکن ملزمان کو گرفتار کرنے سے انکار کردیا، مدعی اور اس کی بیوی اپنے بچوں کے ہمراہ ملزمان کی گرفتاری اور اپنی بچی کی بازیابی کے لیے دھکے کھانے پر مجبور ہے۔

جعلی نکاح خواں اغواکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں

سٹی کورٹ کے اطراف غیرقانونی طور پر نکاح خواں موجود ہیں، لڑکیوں کے نکاح کرکے اغواکاروں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے سٹی کورٹ کے اطراف طاہر پلازہ، انصاف چیمبر و دیگر بلڈنگ میں درجوں نکاح خواں موجود ہیں جنھیں تھانہ رسالہ پولیس کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔

ذرائع کے مطابق طاہر پلازہ میں اشرفی بنگالی، مفتی جان احمد، کفایت، عظیم و دیگر درجنوں نکاح خواں کو نکاح کرنے کا جو لائسنس جاری کیا گیا ہے وہ اورنگی ٹائون، سائٹ ودیگر اضلاع کا ہے لیکن وہ غیر قانونی طور پر ضلع جنوبی کی حدود میں نکاح کر رہے ہیں جس کے باعث اغوا کاروں کو مکمل تحفظ فراہم ہوتا ہے۔

11 سالہ بچی کو اغوا کیا گیا، ملزمان دھمکیاں دیتے ہیں،والدین

11 سالہ بچی کے اغواکاروں کی جانب سے مدعی مقدمہ کو قتل کرنے کی دھمکیوںکا سامنا ہے، مدعی مقدمہ محمد اختر اور اس کی اہلیہ گلشن بی بی نے بتایا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد وہ اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔

مدعی رکشہ چلاکر اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے ملزمان منشیات فورش اورمنشیات کے عادی ہیں وہ گھر سے نکلتے ہی قتل کی دھکی نشہ میں دھت ہوکر غل غپاڑہ کرتے ہیں ، پولیس کو شکایت کی لیکن پولیس ملزمان سے ملی ہوئی ہے،تھانہ ٹیپو سلطان کے ایس ایچ او کہتا ہے کہ منشیات فروش بااثر ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتے۔

سابق جسٹس آف پیس کی جعلی مہریں استعمال کی جاتی ہیں

وفات پانے والے اعزازی مجسٹریٹ سابق جسٹس آف پیس کی جعلی مہریں لگاکر بچیوں کے خود مختاری ( فری ویل) جاری کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے جسٹس آف پیس طفر عالم کے مطابق انھیں محکمہ داخلہ کی جانب سے جسٹس آف پیس کا اجازت نامہ جاری کیا گیا تھا لیکن مدت معیاد ختم ہوگئی ہے وقت نہ ملنے پر تجدید نہیں کرائی لیکن اس کے باجود جعلی مہریں جعل سازوں نے بنائی ہوئی ہیں اور وہ میرا نام استعمال کررہے ہیں جبکہ حاجی معین اعزازی مجسٹریٹ جس کا انتقال ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں لیکن بچیوں کے جانب سے خود مختاری ( فری ویل ) پر مرحوم کی مہروں سے تصدیق کی جارہی ہے۔

The post بچیوں کے جعلی خودمختاری سرٹیفکیٹ جاری کیے جانے لگے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2wqO29G

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...