Skip to main content

انٹر داخلے وقت پر مکمل نہ ہونے سے تعلیمی دورانیہ مزید محدود

 کراچی:  صوبائی محکمہ کالج ایجوکیشن کے تحت کراچی کے سرکاری کالجوں کے ایک لاکھ سے زائد طلبہ کے انٹرسال اول کے داخلے ڈپارٹمنٹ کی غفلت اورکمیٹی کی ناتجربے کاری کے سبب بدترین بدانتظامی کاشکار ہوکر آگے بڑھادیے گئے ہیں۔

ناتجربے کاری  کے سبب کالجوں میں انٹرکے نئے سیشن 2018/19 میں کم از کم 8روزکی تاخیرکردی گئی جبکہ محکمے کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث نجی پارٹی نے مرکزی داخلہ کمیٹی کی ویب سائٹ https://ift.tt/2Pr3NVb عدم ادائیگی پر بند کر دی ہے۔

دوسری جانب محکمہ اسکول ایجوکیشن کے تحت داخلوں کے سلسلے میں چلنے والی ویب سائٹ https://ift.tt/1mfNE0u زیادہ ’’ٹریفک‘‘ پر خراب ’’لوڈ مینجمنٹ‘‘ کے باعث کام چھوڑ چکی ہے اور ویب سائٹ نے فارم ڈاؤن لوڈ کرنے کی صورت میں 502 کی خرابی (error) کو ظاہر کرنا شروع کردیاہے جس کے سبب داخلوں کا پورا مرحلہ بری طرح ناکام اور سرکاری کالجوں میں 7 ماہ پرمحیط انٹرسال اول کاسیشن اب ساڑھے 6 ماہ پرمحدود ہوگیاہے۔

دوسری جانب فارم جمع کرانے سے محروم ہزاروں طلبا وطالبات شدیدذہنی کوفت وپریشانی سے دوچارہیں تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود سندھ کے صوبائی وزیرتعلیم سردارشاہ کی جانب سے اس معاملے پرکوئی نوٹس لیاگیاہے اورنہ ہی طلبہ کے مفاد میں کوئی حکمت عملی تیارکی گئی ہے۔

واضح رہے کہ محکمہ کالج ایجوکیشن کی جانب سے کراچی سمیت سندھ بھرکے سرکاری کالجوں میں انٹرسال اول کے داخلوں کے سلسلے میں آن لائن داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 5ستمبرجبکہ تدریسی عمل کاآغاز10ستمبرسے کیاجاناتھاتاہم اب داخلہ کمیٹی نے آن لائن داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 ستمبر کردی ہے اورسیشن میں تاخیرکرتے ہوئے کلاسز کے آغاز کی نئی تاریخ 18ستمبرمقررکی ہے ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی اورکیپ کے سربراہ پروفیسرمعشوق بلوچ نے دونوں تاریخوں میں توسیع کی تصدیق کردی ہے۔

یادرہے کہ گزشتہ برس مرکزی داخلہ کمیٹی کی جانب سے انٹرسال اول میں داخلوں کے سلسلے میں تمام فیکلٹیزکی ’’پلیسمنٹ لسٹ ‘‘5 ستمبر تک جاری کر دی گئی تھی اور کلاسز کا آغاز بتدریج ستمبرکے دوسرے عشرے کے آغاز سے ہی ہو گیا تھا کالجوں میں سیشن پہلے ہی ستمبر سے شروع ہو کر مارچ میں ختم ہو جاتا ہے اور اپریل کے آخری عشرے میں انٹرکے امتحانات شروع ہو جاتے ہیں تاہم اب سیشن کے آغازمیں مزید تاخیر اور دورانیے میں کمی آ گئی ہے جس سے براہ راست انٹر کے طلبہ متاثر ہوں گے اور پرائیویٹ ٹیوشن سینٹرکی چاندی ہو جائے گی۔

’’ایکسپریس‘‘ کو ذرائع نے بتایاکہ محکمہ کالج ایجوکیشن نے مرکزی داخلہ کمیٹی کے تحت انٹرسال اول کے داخلوں کے سلسلے میں اسکول ایجوکیشن کی ویب سائٹ کے ساتھ ساتھ اپنی ویب سائٹ شروع کرتے ہوئے ایک پرائیویٹ پارٹی سے کئی لاکھ روپے کاکنٹریکٹ کیامتعلقہ پارٹی کوکالج ایجوکیشن ڈپارنمنٹ میں دفتربھی دیا گیا۔

معاہدے کے مطابق ادائیگی نہیں کی جاسکی جس کے سبب متعلقہ پارٹی واپس چلی گئی اورویب سائٹ بند کردی اورویب سائٹ پر باقاعدہ اعلامیہ لکھ دیاکہ ’’محکمہ کالج ایجوکیشن حکومت سندھ کی ویب سائٹ عدم ادائیگی کے سبب معطل ہے‘‘جس کے سبب تمام ٹریفک اسکول ایجوکیشن کی ویب سائٹ کی جانب چلا گیا تاہم یہ ویب سائٹ بھی نامناسب لوڈ مینجمنٹ کے سبب شدید متاثر ہے۔

The post انٹر داخلے وقت پر مکمل نہ ہونے سے تعلیمی دورانیہ مزید محدود appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2PrI4g1

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...