Skip to main content

میٹرک جنرل گروپ اور خصوصی طلبا کے امتحانی نتائج کا اعلان

 کراچی: ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے(ایس ایس سی) پارٹ ٹو جنرل گروپ ریگولر وپرائیویٹ اورخصوصی طلبہ سال دوم کے سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان کردیا۔

نتائج بورڈ کی ویب سائٹwww.bsek.edu.pk پر اور ایس ایم ایس سروس 8583 پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں، نتائج کے مطابق جنرل گروپ میں اقرا حفاظ گرلز سیکنڈری اسکول بلاک بی نارتھ ناظم آباد کی صبیح الزوہا نے762 نمبرحاصل کرکے پہلی، سی پی اینڈ برار ہائی گرلز اسکول غازی صلاح الدین روڈ بلاک7/8 کی مدیحہ نے 758 نمبر حاصل کے دوسری،ڈی ایم سی گرلز اسکول شہید ملت روڈ کی لائبہ اطہر نے754 نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کیں۔

مزید براں خصوصی طلبہ کی پہلی اور دوسری پوزیشنیں ابسا اسکول ڈی ایچ اے کورنگی روڈ نے حاصل کیں جن میں خضرا ظفر نے86.11 فیصد نمبر کے ساتھ پہلی،علیشہ گل قادری نے 85.64 فیصد نمبر کے ساتھ دوسری جبکہ دیوا اسکول گلشن اقبال بلاک 3 محمد حزیفہ قریشی نے 83.29 فیصد نمبر کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

انھوں نے کہا کہ بورڈ کی جانب سے باقاعدہ تقریب کا اہتمام سائنس کا رزلٹ آنے پر کیا جائے گا،جنرل گروپ میں 23923 امیدوار رجسٹر ڈ ہوئے جن میں سے 21683 امتحانات میں شامل ہوئے، شامل ہونے والوں میں 8724طلبہ اور 15199 طالبات شامل ہیں، کامیاب ہونے والوں کی تعداد 13538 ہے جن میں 4099 طلبہ اور 9438 طالبات شامل ہیں، کامیابی کا تناسب 62.44فیصد رہا۔

کامیاب امیدواروں میں سے 201 (0.93فیصد) نے اے ون گریڈ، 1395 (6.43فیصد)نے اے گریڈ2849(13.14فیصد) نے Bگریڈ، 4816 (22.21فیصد) نے سی گریڈ، 3658(16.87فیصد) نے D گریڈ اور 353(1.63فیصد) نے Eگریڈ حاصل کیا، اسی طرح قوت سماعت وگویائی سے محروم خصوصی امیدواروں نے مذکورہ امتحان میں 126 امیدواروں نے رجسٹریشن حاصل کر کے 126 نے ہی کامیابی حاصل کی،101نے فرسٹ ڈویژن جبکہ 24نے سیکنڈ ڈویژن حاصل کی،نتائج میں کامیابی کا تناسب 100فیصد رہا۔

The post میٹرک جنرل گروپ اور خصوصی طلبا کے امتحانی نتائج کا اعلان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2vqhyLo

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...