Skip to main content

پی ٹی آئی اور بی اے پی کا بلوچستان میں حکومت بنانے پر اتفاق

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی میں بلوچستان میں حکومت بنانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے وفد نے بنی گالہ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی جس میں دونوں جماعتوں میں وفاق اور بلوچستان میں حکومت بنانے پر اتفاق ہوا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر جام کمال خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی کیلیے بی اے پی وفاق میں کسی کے ساتھ چل سکتی ہے تو وہ پی ٹی آئی ہے، ان کے ساتھ ملکر وفاق اور بلوچستان میں ایک بہتر حکومت بنائیں گے جب کہ تحریک انصاف کے ساتھ سینیٹ الیکشن میں بھی تعاون رہا ہے۔

جام کمال کا کہنا تھا کہ ایک ٹیم کی صورت میں بلوچستان اور پاکستان کے عوام کیلیے کام کریں گے  اور ملکر بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے طریقہ کار نکالیں گے جب کہ ہم نے بغیر کسی شرط کے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی  کی حمایت سے بلوچستان میں سادہ اکثریت سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں اور یہاں سے بہت اچھا پیغام لے کر بلوچستان جارہے ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ قوم کومبارک باد دیتا ہوں تمام معاملات طے کرلیے گئے ہیں، بلوچستان اور وفاق میں ٹیم ورک کے تحت کام کریں گے، جام کمال سے بہت مثبت بات چیت ہوئی، تمام نقاط پر ہمارا بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بی اے پی کا حق ہے کہ وزیراعلیٰ ان کی پارٹی کا ہو۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر ایسے ہیں جو بلوچستان میں عدم استحکام دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہم نے بلوچستان میں بی اے پی کے ساتھ مل کر چلنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ نئی سوچ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کیلیے اہم پیشرفت ہوگی۔

The post پی ٹی آئی اور بی اے پی کا بلوچستان میں حکومت بنانے پر اتفاق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2KewDVE

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...