Skip to main content

پنجاب میں حکومت بنانے کیلیے پی ٹی آئی نے مطلوبہ نشستیں حاصل کرلیں

 لاہور: پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے تحریک انصاف کو (ق) لیگ کی 8 اور 21 آزاد امیدواروں کی حمایت حاصل ہوگئی جس کے بعد ان کی نشستوں کی تعداد 152 تک جاپہنچی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے تحریک انصاف اور ن لیگ میں رسہ کشی جاری ہے، مزید 3 آزاد امیدوار پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے جن میں پی پی 238 سے شوکت لالیکا، پی پی 97 سے اجمل چیمہ اور پی پی 106 سے ملک عمر فاروق شامل ہیں۔

عام انتخابات میں تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی کی 123 نشستیں حاصل کیں، مسلم لیگ (ق) کی 8 اور 21 آزاد ارکان کی حمایت کے ساتھ اب تحریک انصاف کی نشستوں کی تعداد 152 تک جاپہنچی ہے جبکہ پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے انہیں 148 ارکان کی حمایت درکار ہیں۔

پنجاب میں حکومت بنانے کا ایجنڈا لے کر تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت کی بیٹھک بھی لگی جس میں چوہدری پرویز الہیٰ کو اسپیکر پنجاب اسمبلی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ طے پایا کہ وفاق میں بھی (ق) لیگ کو ایک وزارت اور وزیر مملکت کا عہدہ ملےگا۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) بھی پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ سابق حکمران جماعت نے عام انتخابات میں 129 نشستیں جیتیں، جس کے بعد پیپلز پارٹی کے 6 اور ایک آزاد امیدوار نے (ن) لیگ کی حمایت کی ہے۔ ادھر رانا ثناء اللہ کا دعویٰ ہے کہ چوہدری نثار بھی (ن) لیگ کو ووٹ دیں گے اس طرح مسلم لیگ کی نشستوں کی تعداد 137 بنتی ہے۔

دریں اثنا بلوچستان عوامی پارٹی کے ایک رکن نے بھی پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کردیا۔ جہانگیر ترین مزید ارکان اسمبلی کی پارٹی میں شمولیت کے لیے پرعزم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مزید لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہونے آرہے ہیں یہ اسکور مزید آگے بڑھے گا، ہمارا نمبر گیم پورا ہورہا ہے لیکن ہم چاہتے ہیں زیادہ لوگ ہمارے پاس ہوں۔

The post پنجاب میں حکومت بنانے کیلیے پی ٹی آئی نے مطلوبہ نشستیں حاصل کرلیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2vmEE5z

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...