Skip to main content

جسٹس شوکت صدیقی کیخلاف ریفرنس کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد

 اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیخلاف ریفرنس کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کردی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیخلاف ریفرنس کی سماعت کی۔  اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے کارروائی روکنے کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا کل کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہتے ہیں، عدالت ہماری درخواست کے فیصلے تک کونسل کی کارروائی روک دے۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس شوکت صدیقی کے ساتھ انصاف ہوگا، چیف جسٹس

جوڈیشل کونسل نے کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج گواہوں کا بیان ریکارڈ کرنے دیں پھر آپ کی درخواست کو دیکھ لیں گے، اگر اس پر رجسٹرار کو اعتراض نہ ہو تو ایک آدھ دن میں سماعت کے لیے لگا دیں گے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔

گزشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تین درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اعلی عدلیہ کے بعض ججز کو ملنے والے فنڈز کی تفصیلات مانگی تھیں جنہوں نے سرکاری رہائشگاہوں کے ساتھ ساتھ اپنے نجی گھروں کو بھی سرکاری رہائشگاہ قرار دیا ہوا ہے۔ ساتھ ہی وہ سرکاری خزانے سے ان گھروں کی دیکھ بھال کے لیے ہزاروں روپے کا الاؤنس بھی لے رہے ہیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر الزام ہے کہ انھوں نے اسلام آباد میں اپنی سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور مختص کردہ بجٹ سے زیادہ رقم خرچ کرائی۔

The post جسٹس شوکت صدیقی کیخلاف ریفرنس کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2AxukNQ

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...