Skip to main content

کراچی میں ہلکی بارش سے گرمی بڑھ گئی، آج بھی برسات کی پیش گوئی

 کراچی:  محکمہ موسمیات کی جانب سے جمعرات اور جمعہ کو گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی بوندا باندی اور ہلکی بارش پر مکمل ہوگئی۔

کراچی کے کئی علاقوں میں جمعرات سے بونداباندی اور ہلکی بارش جاری تھی جبکہ شدید حبس اور گرمی سے شہریوں کا برا حال تھا، جمعہ کو شہر کا درجہ حرارت 37.8 ڈگری رہا اور شدید حبس کے باعث ہوا بھی بند رہی جس کے باعث گھروں سے کام کاج کے لیے نکلنے والے اور نماز جمعہ پڑھ کر نکلنے والے شہری پسینے سے شرابور ہوگئے، جمعہ کو شہر کا مطلع مکمل طور پرابر آلود رہا ، جمعرات اور جمعہ کو مون سون کی پہلی بارش کے دوران لانڈھی اور جناح ٹرمینل پر 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق مون سون کی کم شدت بارشیں ریکارڈ ہونے کی وجہ سے شہر کا درجہ حرارت پھر بڑھ گیا جمعہ کو پارہ 37.8ڈگری ریکارڈ کیا گیا، محکمہ موسمیات کی جانب سے (آج ) ہفتے تک مزید ہلکی بارش کی پیش گوئی برقرار ہے، محکمہ موسمیات کراچی کے مطابق جمعرات کو شہر کے مختلف علاقوں میں شروع ہونے والی بونداباندی اور ہلکی بارش کا تسلسل جمعے کو بھی بلدیہ اور شیرشاہ سمیت چند علاقوں میں بونداباندی اور ہلکی بارش کی شکل میں جاری رہا جبکہ (جمعے) کو شہر کا مطلع مکمل آبر آلود رہا  بارشوں کے موجودہ موسمی نظام (سسٹم) کے تحت کم شدت کی بارشیں ہونے کی وجہ سے شہر کے درجہ حرارت میں گزشتہ روز کے مقابلے میں 5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ رہا محکمہ موسمیا ت کی جانب سے(آج) ہفتے تک بارشوں ہونے کی پیش گوئی برقرار ہے۔

جمعرات اور جمعے کے درمیان ہونے والی مون سون کی پہلی بارش کے دوران شہر قائد کے علاقوں لانڈھی اور جناح ٹرمینل پر 2 ملی میٹر جبکہ اندورن سندھ کے ڈھاہلی میں80،چھور 44،چھاچھرو 40،مٹھی 33،ڈیپلو 24،بدین 7اور کلوہی میں4 ملی میٹر بارشیں ریکارڈ کی گئی۔

The post کراچی میں ہلکی بارش سے گرمی بڑھ گئی، آج بھی برسات کی پیش گوئی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2tQ1Ybm

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...