Skip to main content

لسبیلہ سے آگے۔۔۔

بلوچستان وہ صوبہ ہے جو اپنی پسماندگی اور عوام کے احساسِ محرومی کے حوالے سے ملک کے اعلیٰ ایوانوں اور قومی سیاست میں زیرِ بحث رہتا ہے، مگر اس سے ہٹ کر دیکھا جائے تو یہی صوبہ اپنے دل فریب اور پُرکشش قدرتی مناظر اور تاریخی مقامات کے لیے بھی شہرت رکھتا ہے۔

بلوچستان میں متعدد تفریح گاہیں ہیں جو سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں، ان میں اپنی آب و ہوا کے لیے مشہور علاقہ زیارت، درون نیشنل پارک، ہزار گنجی، چلتن نیشنل پارک، قدرتی حُسن سے مالا مال ہر بوئی جنگلات، ہنگول نیشنل پارک وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ آج ہم چمن زار کے قارئین سے درون نیشنل پارک کے بارے میں معلومات شیئر کریں گے۔ لسبیلہ کے نام سے کون واقف نہیں۔ اسی شہر کے مغرب میں 115کلومیٹر کے فاصلے پر یہ علاقہ نیشنل پارک کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔

اس نیشنل پارک کی سب سے اونچی چوٹی کا نام ’’سرکوہ‘‘ ہے، جس کی بلندی 5185 فٹ ہے۔ اسی چوٹی پر کسی زمانے میں ایک اونچا ٹاور بنایا گیا تھا جس پر کھڑے ہو کر لسبیلہ اور کراچی کا کچھ علاقہ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ ٹاور اب خستہ حال ہو چکا ہے۔ 1988ء میں درون کے 167,700ایکڑ رقبے کو حکومتِ بلوچستان نے نیشنل پارک کی حیثیت دے دی تھی۔ یہاں قدرتی مناظر کے علاوہ مختلف حیوانات اور نباتات کی مختلف اقسام کو پروان چڑھایا گیا جو اس پارک کا حسن بڑھاتے ہیں۔

درون نیشنل پارک میں عام جانور جیسے پہاڑی بکرے، خرگوش، جنگلی بلیاں وغیرہ دیکھی جاسکتی ہیں، اسی طرح چنکارہ ہرن، مور، چیتے، بھڑیے، چیتا بلی، لومڑی، گیڈر، اڑیال بھی پھرتے نظر آتے ہیں۔ درختوں پر پرندوں میں عام پرندے خوب صورت کبوتر، چڑیا، توتے کے علاوہ تیتر، سیسی، کوہی جیسے پرندے بھی ملتے ہیں۔ اسی طرح اژدھے، زہریلے سانپ اور دیگر موذی حشرات بھی اس پارک میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہاں مختلف چشموں میں آبی نباتات کے علاوہ مچھلی و دیگر جاندار بھی پائے جاتے ہیں۔

درون نیشنل پارک سے دل چسپ قصے اور مختلف پُراسرار واقعات بھی منسوب ہیں جسے مقامی لوگ یہاں آنے والے سیاحوں کو سناتے ہیں اور یوں ان کی دل چسپی اور توجہ حاصل کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے پُرفضا مقام اور جنگلی حیات کی پناہ گاہ کی مناسب اور باقاعدہ دیکھ بھال کی جائے جب کہ حکومت اور متعلقہ ادارہ اسے ایک تفریحی مقام کے طور پر متعارف کروانے کی کوشش کرے۔

The post لسبیلہ سے آگے۔۔۔ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2Kv3cjc

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...