Skip to main content

زمین کی غیر قانونی فروخت کی تحقیقات پر کے ڈی اے افسران میں کھلبلی

 کراچی:  کراچی کے اربوں روپے مالیت کے پلاٹوں کی مبینہ طور پر قواعد وضوابط سے ہٹ کر فروخت کر نے والے کے ڈی اے افسران کیخلاف نیب کا شکنجہ سخت ہوتے ہی افسران میں زبردست کھلبلی مچ گئی بوگس نیلامی کے پلاٹس کے چالان اور ڈیٹا انٹری کرنے والے افسران سمیت دیگر نے اپنے عہدوں سے راہ فرار اختیار کرنا شروع کردی۔

سینئر ڈائریکٹر آئی ٹی محمد کمال نے چھٹی پر جانے کی درخواست دے ڈالی جبکہ حیران کن طور پر محکمہ آئی ٹی میں موجود اپنے سب سے قریبی ایڈ یشنل ڈائریکٹر ایس ایم سہیل کا محمد کمال نے خود ہی تبادلہ کرکے ادارے کے افسران کو حیران کردیا ہے ،ادارے کے ذمہ دار ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سابق ڈی جی ناصر عباس کے دور میں مبینہ طو ر بے قاعدگیوں کے ذریعے اربوں مالیت کے پلاٹوں میں محکمہ آئی ٹی کے افسران نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے محکمہ آئی ٹی سے جاری ہونے والے چالان اور انٹریوں کی تفصیلات مانگ لی ہیں جس پر مذکورہ افسران میں زبردست کھلبلی مچی ہوئی ہے۔

گذشتہ روز کے ڈی اے میں غیر قانونی طور پر تعینات ایڈیشنل ڈائریکٹر لینڈ محمد کامران کو نیب نے حراست میں لے لیا تھا جبکہ سابق ڈی جی ناصر عباس کو پلاٹوں کی بندر بانٹ میں سہولت فراہم کرنے والے دیگر افسران کیخلاف بھی نیب کا شکنجہ سخت ہوگیا ہے۔ محکمہ آئی ٹی میں تعینات سینئر ڈائریکٹر محمد کمال کے حوالے سے کے ڈی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات شروع ہوتے ہی انہوں نے چھٹیوں پر جانے کی درخواست کردی ہے اور اپنے سب سے قریبی ایڈیشنل ڈائریکٹر آئی ٹی ایس ایم سہیل جو کہ گریڈ18کے افسر ہیں ان کا بھی محکمے سے تبادلہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ 18گریڈ کے افسر کے تبادلے کا اختیار ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے اور سیکریٹری کے پاس ہے لیکن محمد کمال نے اپنے دستخطوں سے ایس ایم سہیل کا تبادلہ کیا ہے جسے افسران غیر قانونی قرار دے رہے ہیں، ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ نیب کی جانب سے دیگر اداروں سے کے ڈی اے میں آنے والے افسران کو واپس نہ بھیجے جانے پر بھی تحقیقات کی جارہی ہے۔

The post زمین کی غیر قانونی فروخت کی تحقیقات پر کے ڈی اے افسران میں کھلبلی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2IDDBmv

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...