Skip to main content

نواز شریف کی تینوں ریفرنسز میں واجد ضیاء کا بیان قلمبند کرنے کی درخواست

 اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خلاف دائر تینوں ریفرنسز میں نیب کے گواہ واجد ضیاء کا بیان قلمبند کرنے کی درخواست دائر کردی۔

احتساب عدالت اسلام آباد میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں نواز شریف پیش ہوئے۔  نواز شریف نے تینوں ریفرنسز میں نیب کے گواہ اور پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کا بیان قلمبند کرنے کی درخواست دائر کردی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ  نیب ریفرنسز میں آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے، ہمارا موقف شروع دن سے یہی تھا کہ ایک ریفرنس دائر ہونا چاہیے تھا۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ تینوں ریفرنسز میں ایک جیسے الزامات ہیں، ایک ساتھ ٹرائل مکمل کریں ، العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں بھی واجد ضیاء کا بیان قلمبند کرائیں ، ہمارا دفاع ظاہر ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: کل جلسہ لاہور کا ، مجمع پشاور کا اور ایجنڈا کسی اور کا تھا، نوازشریف

نیب پراسکیوٹر سردار مظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ ہم پہلے مرحلے میں لندن فلیٹس ریفرنس کا ٹرائل مکمل کرنا چاہتے ہیں، لیکن وکیل صفائی کارروائی کو بلڈوز کرنا چاہتے ہیں، اگر چاہیں تو تفتیشی افسر عمران ڈوگر کا بیان ریکارڈ کرلیا جائے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں تفتیشی افسر کا بیان قلمبند کرنے سے ہمارا دفاع متاثر ہوگا، ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مشترکہ گواہوں کا بیان ایک ساتھ قلمبند کیا جائے، نیب پراسیکیوشن نے واجد ضیاء کا بیان قلمبند کرانے کے بجائے ایون فیلڈ میں تفتیشی افسر کا نام دیدیا۔

احتساب عدالت نے دلائل سننے کے بعد ایون فیلڈ ریفرنس میں تفتیشی افسر عمران ڈوگر کا بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ عدالت نے کہا کہ وکیل صفائی کی درخواست پر فیصلہ بعد میں سنایا جائیگا۔

The post نواز شریف کی تینوں ریفرنسز میں واجد ضیاء کا بیان قلمبند کرنے کی درخواست appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2w2zuiU

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...