Skip to main content

بھارت میں ذات پات اور تفریق سے تنگ سیکڑوں ہندوؤں نے مذہب چھوڑ دیا

احمد آباد: بھارتی ریاست گجرات کے قصبے اونا کے 300 دلتوں نے ذات پات کی بنیاد پر تشدد اور تفریق سے تنگ ہوکر ہندو مذہب ترک کرکے بدھ مذہب اختیار کرلیا ہے۔

بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی جہاں  اپنی ملکی تاریخ کو مسخ کرنے کے درپے ہے وہیں ملک میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ آئے روز غیرملکی طلبا، مسیحی برادری، روہنگیا سمیت بھارت کی دیگر ریاستوں میں بسنے والے مسلمانوں اور خود ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے نیچی ذات(دلت) کے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہندو انتہاپسندوں کی درندگی سے تنگ اقلیتی برادری یا تو دیگر ممالک میں ہجرت کرنے پرمجبور ہے یا پھراپنے بچاؤ کے لئے مذہب ہی تبدیل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست گجرات کے قصبے اونا کے نواحی گاؤں سمادھیالہ میں ذات پات کی بنیاد پر تفریق اور تشدد سے تنگ و مجبور تقریباً 300 ہندوؤں نے اپنے مذہب کو خیرباد کہہ دیا ہے اور اب وہ باقاعدہ طور پر بدھ مذہب میں داخل ہوگئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جولائی 2016 میں گاؤں کے رہائشی بالوسرویا نامی شخص کے بیٹوں اور بھتیجوں کو ہندو انتہا پسندوں نے گائے مارنے کے الزام میں ناصرف کوڑے مار کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ انہیں گاؤں میں سرِعام نیم برہنہ حالت میں گھمایا گیا تھا۔

واقعے کے متاثرین کا کہنا ہے کہ 2 سال گزر جانے کے باوجود ہمیں انصاف نہیں ملا اور نا ہی حکومت کی جانب سے کوئی مدد کی گئی بلکہ تشدد کرنے والے اونچی ذات کے ہندو ملزمان ضمانت پر رہا ہو کر سرِعام گھوم رہے ہیں، ہم دلتوں پر مظالم اور تشدد کی علامت بن گئے تھے، ہمیں اب بھی تفریق کا سامنا ہے، ہماری برادری کے لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آخر اتنے ظلم سہنے کے باوجود آپ ہندو مذہب میں کیوں قائم ہیں؟ ہم آج بھی اونا کے تشدد کی ویڈیو کو دیکھ کر کانپ جاتے ہیں۔ اس لئے ہم برابری اور عزت کے لئے ہندومذہب چھوڑ کر نئی زندگی کا آغاز کررہے ہیں۔

سمادھیالہ گاؤں میں ہونے والی باضابطہ تقریب میں اونچی ذات کے ہندوؤں کے تشدد کا نشانہ بننے والے گھرانے سمیت 3 سو سے زائد دلتوں نے بدھ مذہب اختیار کیا، بدھ مذہب میں داخل ہوتے ہوئے انہیں 22 اصولوں پر عمل کرنے کا عہد کرایا گیا۔ جس  میں ہندو دیوی، دیوتاؤں کو خدا نہ ماننے اور ان کی پوجا نہ کرنے کا عہد بھی شامل تھا۔

The post بھارت میں ذات پات اور تفریق سے تنگ سیکڑوں ہندوؤں نے مذہب چھوڑ دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل https://ift.tt/2r9uzI4

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...