Skip to main content

ملک میں کام کرنے والوں کو عدالت میں گھسیٹنا روایت بن گئی ہے، وزیراعظم

ڈیرہ غازی خان: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں کام کرنے والوں کو عدالت میں گھسیٹنا روایت بن گئی ہے لیکن جس ملک میں سیاستدان کی عزت نہیں ہوگی وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ 

ڈیرہ غازی خان میں تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے صرف وقت ضائع کیا اور کوئی کام نہیں کیا، 15 سال کی خرابیاں 5 سال میں دورنہیں ہوتیں لیکن اگر کسی نے مسائل حل کرنے کی کوشش کی تو وہ نواز شریف ہیں، مسلم لیگ (ن) کو پانچ سالوں میں کام نہیں کرنے دیا گیا، کبھی دھرنے ہوئے کبھی عدالتوں میں گھسیٹا گیا، ملک کے لئے کام کرنے والوں کو عدالت میں گھسیٹنا روایت بن گئی ہے، سیاسی استحکام نہ ہونے تک ملک ترقی نہیں کرتا، جس ملک میں سیاستدان کی عزت نہیں ہوگی وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدلیہ کی عزت کی ہے، سیاست کے فیصلے پولنگ اسٹیشنوں میں ہوتے ہیں اور ووٹ کرتے ہیں عدالتیں نہیں، اس لئے سیاست کے فیصلے عوام پر چھوڑ دیں کیونکہ عوام کے فیصلے درست ہوتے ہیں، عدالت کے فیصلوں پر اپیل ہوتی ہے، 2008 میں عوام نے فیصلہ کیا اور آصف زرداری نے جو کیا وہ عوام کے سامنے ہے،اسی لیے 2013 میں عوام نے انہیں مسترد کردیا۔ ہم نے کبھی کسی کے بارے میں برے الفاظ استعمال نہیں کئے، گالیاں دینے والے گالیاں دینا جانتے ہیں ان سے خیر کی توقع نہ رکھیں، عوام اس کا جواب پولنگ اسٹیشن پردیں گے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا لوگ کہتے ہیں کہ مجھےچیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے معاملے پرمداخلت نہیں کرنی چاہیے، چیئرمین سینیٹ بیان دیں کہ کسی سینیٹر کو نہیں خریدا، کیا ہمارے سینیٹرز وہ لوگ ہونے چاہیئں جوپیسے دے کر سینیٹ میں آئیں۔ جس ایوان کی بنیاد کرپشن پرہو،کیا وہ ایوان پاکستان کے مفاد کیلیےکام کرسکتا ہے، میں آخری دم تک مداخلت کرتارہوں گا کیونکہ اس برائی کا خاتمہ جہاد سمجھتا ہوں، ہمیں اس برائی کا ووٹ کے ذریعے مقابلہ کرنا ہے، ہم اس دو نمبر سیاست کے خلاف جنگ  کرنا چاہتے ہیں، آج اس برائی کا خاتمہ نہیں کیا تو یہ جڑیں کھوکھلا کردیں گی، ووٹ کی عزت کیلیے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیں۔

The post ملک میں کام کرنے والوں کو عدالت میں گھسیٹنا روایت بن گئی ہے، وزیراعظم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2uFTbvY

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...