Skip to main content

کراچی میں بجلی بحران پر وزیرِاعلیٰ سندھ کا وزیرِاعظم کو خط

کراچی: وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بجلی کے بحران کے لئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو خط لکھا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں بجلی کے بحران کے حل کے لئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو خط ارسال کردیا ہے جس میں وزیراعلیٰ سندھ  نے بتایا ہے کہ کے الیکٹرک کو گیس پاور چلانے کے لئے 190 ایم ایم سی ایف گیس کی ضرورت ہے لیکن اسے 90 ایم ایم سی ایف گیس فراہم کی جارہی ہے جو شہر کی بجلی کی ضرورت پوری کے لئے ناکافی ہے، شہر میں پہلے ہی 400 میگا واٹ بجلی کی قلت تھی اب گیس سپلائی کم ہونے سے مزید 500 میگا واٹ بجلی کم ہوگئی ہے۔ شہر میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 10 گھنٹے تک بڑھ چکا ہے جب کہ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ اور صنعتی علاقوں کو بھی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ اور سندھ اور پاکستان کی معیشت بھی متاثر ہورہی ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  رمضان المبارک کے دوران کراچی میں بدترین لوڈشیڈنگ کا عندیہ

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی ضد کی وجہ سے کراچی کے گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین کو سخت پریشانی کا سامنا ہے جب کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ بھی متاثر ہے، شہر  میں گرمی کا پارہ 40 ڈگری تک پہنچنا اور اس کے ساتھ بجلی کا بحران انتہائی تشویشناک ہے اور اس صورتحال میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: کراچی کا درجہ حرارت 41.5 ڈگری سینٹی گریڈ

خط میں درخواست کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت کے الیکٹرک کو 276 ایم ایم سی ایف گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے سوئی سدرن گیس کمپنی کو ہدایات جاری کرے، اور ایس ایس جی سی کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کا پابند بنائے۔  وزیراعلیٰ نے خط میں کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے مابین واجبات کا تنازعہ حل کرنے کے لئے وفاق ، سندھ اور فریقین کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی دی ہے۔

The post کراچی میں بجلی بحران پر وزیرِاعلیٰ سندھ کا وزیرِاعظم کو خط appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان https://ift.tt/2pSMfXE

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...