Skip to main content

امریکی خاتون نے بلی کے کڈنی ٹرانسپلانٹ پر19 ہزارڈالرخرچ کرڈالے

امریکا میں ایک خاتون نے پالتو بلی کی زندگی بچانے کی خاطر اس کے گردے کے ٹرانسپلانٹ پر 19 ہزار ڈالر خرچ کرڈالے۔

میری لینڈ کے شہر بالٹی مور کی خاتون پروفیسر بیسٹی بوائڈ نے اپنی پسندیدہ بلی اسٹینلے کی زندگی بچا کر نئی مثال قائم کردی۔ بالٹی مور کی رہائشی خاتون کو 2016ء میں ایک روٹین چیک اپ کے دوران ڈاکٹرز نے بتایا کہ ان کی بلی کا گردہ کام نہیں کررہا اور یہ صرف 3 ماہ ہی زندہ رہ سکے گی جس کے بعد خاتون نے بلی کو نئی زندگی دینے کے لیے ماہر ڈاکٹر کی تلاش شروع کردی۔

خوش قسمتی سے بلی 3 ماہ بعد بھی زندہ رہی جس پر بیسٹی کو مزید حوصلہ ملا اور انہوں نے بلی کے گردے کا ٹرانسپلانٹ کروانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے تمام تر معلومات اکٹھی کیں جب کہ ڈونر کو بھی تلاش کرلیا مگر ڈاکٹرز نے ٹرانسپلانٹ کے لیے 19 ہزار ڈالر کا خرچ بتایا۔

خاتون کے شوہر ایک فری لانس صحافی تھے اور پروفیسر کی سالانہ کمائی بھی صرف 46 ہزار ڈالر تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس ٹرانسپلانٹ کا فیصلہ کیا اور اپنے جڑواں بچوں کے اخراجات اور نئی گاڑی خریدنے کے لیے جمع کی گئی رقم بلی کے ٹرانسپلانٹ پر خرچ کرڈالی۔

ٹرانسپلانٹ کے بعد ایک انٹریو میں بیسٹی کا کہنا تھا کہ مجھے میرے دوستوں اور فیملی ممبران نے کہا کہ وہ ایک بلی پر اتنے پیسے خرچ نہ کرے بلکہ یہ پیسے اپنے بچوں کے اسکول کے لیے سنبھال کررکھے یہاں تک کہ ڈاکٹرز نے بھی کہا کہ ٹرانسپلانٹ کا مرحلہ خطرے سے خالی نہیں، اس میں بلی کی جان بھی جاسکتی ہے مگر میں نے انہیں جواب دیا کہ یہ بلی بھی میری فیملی کا حصہ ہے اور مجھے انسانوں میں آج تک کسی نے اتنا پیار نہیں کیا جتنا پیار مجھے اس بلی سے ملا، اسی لیے مجھے بھی اسٹینلے سے بے پناہ محبت ہے۔

The post امریکی خاتون نے بلی کے کڈنی ٹرانسپلانٹ پر19 ہزارڈالرخرچ کرڈالے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » دلچسپ و عجیب https://ift.tt/2J7hYfC

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...