Skip to main content

طبی فضلے کو پہلی بار سائنسی بنیادپر تلف کیا جائے گا

 کراچی: کراچی سمیت صوبے کے ٹیچینگ سرکاری اسپتالوں سے استعمال شدہ طبی فضلے کو سائنسی بنیاد پر ٹھکانے لگانے کیلیے پہلی بار ڈیپ ہیٹ اسٹیلائزیشن پلانٹ منگوا لیے گئے جن کی مالیت کروڑوں روپے بتائی گئی ہے۔

یہ پلانٹ محکمہ صحت کی مرکزی پرچیزنگ کمیٹی کی منظوری سے منگوائے گئے ہیں، 15مارچ تک نصب کردیے جائیں گے، ڈیپ ہیٹ اسٹیلائزیشن پلانٹ کراچی کے جناح اسپتال، سول اسپتال، لیاری اسپتال جبکہ اندرون سندھ میں لیاقت میڈیکل یونیورسٹی و اسپتال، بے نظیر بھٹو یونیورسٹی و اسپتال لاڑکانہ سمیت دیگر اسپتالوں میں نصب کیے جائیں گے، اس جدید پلانٹ میں اسپتالوں میں مریضوں پر استعمال شدہ خون کے بیگز، ڈراپس سیٹ، استعمال شدہ سرنجیں، کینولہ، یورین بیگز سمیت دیگر طبی فضلے کو ایک ہزار سینٹی گریڈ پرجلا کر تلف کیا جائے گا۔

اس جدید ترین پلانٹ میں طبی فضلے کو ایک ہزار سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر جلایا جائے گا تاکہ طبی فضلے میں شامل مختلف جراثیم اور وائرس کو تلف کیا جا سکے، اس درجہ حرارت پر طبی فضلے کو تلف کیے جانے سے جراثیم اور وائرس کا یقینی خاتمہ ہوگا، واضح رہے کہ سرکاری اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کو بیشتر سرکاری اسپتالوں میں غیر سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگایا جاتا تھا، بیشتر اسپتالوں میں کچرا جلانے والی انسیلیئٹر مشینیں بھی ناکارہ پڑی ہیں۔

جس کی وجہ سے ان سرکاری اسپتالوں سے نکلنے والا طبی فضلے کو منظم انداز میں مافیا فروخت کرنے میں مصروف ہے، اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کو منظم انداز میں جمع کیا جاتا ہے اور اسپتالوں سے ٹرک کے ذریعے رات کے اوقات میں مخصوص مقامات پر لے جایا جاتا ہے جہاں تمام اسپتالوں کا طبی فضلہ جمع کیا جاتا ہے اور فروخت کیا جاتا ہے۔

The post طبی فضلے کو پہلی بار سائنسی بنیادپر تلف کیا جائے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://ift.tt/2HPpgnI

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...