Skip to main content

پارلیمنٹ کو قانون سازی پر مجبور نہیں کر سکتے، چیف جسٹس

 اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی پر مجبور نہیں کر سکتے تاہم قانون یا کسی معاملے میں کمی کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ ڈاکٹر مرزا نقی ظفر عدالت میں پیش ہوئے اور بریفنگ دی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گردوں کی غیرقانونی پیوند کاری بہت بڑا ناسور ہے، گردے اور اعضا عطیہ کرنے پر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا، گردے نکالنے سے بڑھ کراستحصال کیا ہوسکتا ہے، اس ناسور کے خاتمے کے لیے کیااقدامات ہوسکتے ہیں، اس دھندے میں ملوث لوگ کالی بھیڑیں ہیں، 10مارچ کو کراچی میں مقدمات کی سماعت کرنی ہے، ڈاکٹر ادیب بھی اس معاملے میں ہماری معاونت کریں۔

ڈاکٹر مرزا نقی ظفر نے بتایا کہ غیر قانونی گردوں کی پیوند کاری عرصے سے ہورہی ہے، خفیہ مقامات پر گردے نکالے اور ڈالے جاتے ہیں، غیر قانونی پیوند کاری کو روکنے کے لیے قومی اور لوکل سطح پر کوئی اتھارٹی نہیں ہے، وفاقی اور صوبائی سطح پر موجود اتھارٹیز بااختیارنہیں ہیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختون خوا کے میں اتھارٹی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گردہ اسکینڈل میں ملوث ڈاکٹر فواد کی درخواستِ ضمانت مسترد

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیا آپ نے پیوند کاری سے متعلق وفاقی اور صوبائی قوانین کا جائزہ لیا ہے، قومی سطح پر اتھارٹی نہ ہو لیکن مقامی  سطح پر ضرور ہونی چاہیے، اگر قوانین درست ہیں تو مزید قانون سازی کی ضرورت نہیں، ایسی صورت میں اصل معاملہ قانون کی عملداری کا ہوگا، قانون سازوں کو قانون بنانے کے لئے مجبور نہیں کر سکتے، قانون یا کسی معاملے میں کمی کی نشاندہی کر سکتے ہیں، بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ انسانی اعضاء ٹرانسفر نہیں ہو سکتے، کون سے اعضاء ہیں جنکی پیوند کاری ہو سکتی ہے، آنکھ کا عطیہ کوئی انسان اپنی زندگی میں کر سکتا ہے، اعضاء عطیہ کرنے کے لیے کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر مرزا نقی نے کہا کہ عوام میں آگاہی کی ضرورت ہے ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے اعضاء عطیہ کرنا چاہتے ہیں، اعضاء کی پیوند کاری کا طریقہ کار ہمیں طے کرنے کی ضرورت ہے، غیر قانونی پیوندکاری کے لئے بیرون ملک سے بھی لوگ آتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اعضاء کو عطیہ کرنے کے لئے کیا ہونا چاہیے ہمیں تحریری طور پر دے دیں، 10 مارچ کو ہوسکتا ہے کراچی میں سماعت نہ ہو، 17 مارچ کو کراچی میں ہمارا بینچ ہوگا۔

کیس کی مزید سماعت 17 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔

The post پارلیمنٹ کو قانون سازی پر مجبور نہیں کر سکتے، چیف جسٹس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://ift.tt/2EZnMWg

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...