Skip to main content

اعلیٰ تعلیم؛ اختیارات کی قسیم پر وفاق اور صوبوں میں 8 سالہ ڈیڈ لاک ختم

 کراچی: وفاقی اورچاروں صوبوں کے مابین اعلیٰ تعلیمی کمیشن اسلام آباد اور صوبائی ایچ ای سیزکے اختیارات کی تقسیم اورفعالیت کے حوالے سے 8 سالہ ڈیڈلاک آخرکارختم ہوگیا ہے۔

وزیراعظم  شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت منعقدہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں صوبوں کے آئینی اورانتظامی اختیارات کوتسلیم کرتے ہوئے وفاق انھیں پہلی بارنئے قائم ہونے والی سرکاری ونجی جامعات اوراسنادتفویض کرنے والے اداروں کی این اوسی کے اجرا کا اختیار دینے پر وفاقی رضا مندہوگیا ہے۔

صوبوں میں اعلیٰ تعلیم کوریگولیٹ کرنے کی ذمے داری اب صوبائی حکومت کے پاس ہوگی، وفاقی ایچ ای سی کاکردارکم از کم معیارات برقرار رکھنے کاہوگاتاہم اس کااطلاق بھی صوبے کریں گے جامعات کے معیارات کی مانیٹرنگ وفاقی وصوبائی ایچ ای ای سی دونوں کرسکیں گے۔

مزیدبراں وفاقی ایچ ای سی میں صوبوں کی نمائندگی بھی بڑھادی جائے گی تاہم اسنادکومساوی قراردینے اوراس کی تصدیق کا اختیار بدستوروفاقی ایچ ای سی کے پاس ہی رہے گا یہ اختیار صوبوں کومنتقل نہیں کیا گیا جبکہ ٹیسٹنگ باڈی پر فیصلہ نہیں ہوسکا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت 3 روز قبل منعقدہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں یہ فیصلے’’سی سی آئی ‘‘ کی ضمنی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیے گئے ہیں جو وفاقی وزیرتعلیم وتربیت بلیغ الرحمان کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی۔

ضمنی کمیٹی کاآخری اجلاس 9فروری کو منعقد ہوا تھا، اس اجلاس میں بھی چیئرمین وفاقی ایچ ای سی ڈاکٹرمختاراحمد،چیئرمین سندھ ایچ ای سی ڈاکٹرعاصم حسین،چیئرمین پنجاب ایچ ای سی ڈاکٹر ناظم الدین اور ایڈیشنل چیف سکریٹری سندھ محمد حسین سید کے علاوہ دیگر شخصیات شریک ہوئی تھیں۔

کہاجارہاہے کہ ضمنی کمیٹی کی ان سفارشات پروزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے اٹھارویں ترمیم کے بعد سے تاحال موجود ڈیڈلاک کافی حد تک ختم ہوگیاہے تاہم فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے وفاقی ایچ ای سی کے ایکٹ میں ترمیم ناگزیر ہوگئی ہے اورفیصلوںپرعمل درآمد وفاقی ایچ ای سی کے ایکٹ میں ترمیم سے مشروط ہوگا۔

’’ایکسپریس‘‘ کو اس حوالے ضمنی کمیٹی کے اجلاس کی موصولہ سفارشات سے معلوم ہواہے کہ سرکاری ونجی جامعات کوچلانے کے لیے وفاقی وصوبائی ایچ ای سیز کے اختیارات کو3 حصوں میں تقسیم کیاگیاہے ایک کیٹگری وہ ہے جس میں کچھ اختیارات محض وفاقی ایچ ای سی کے پاس ہونگے۔

دوسری کیٹگری میں صوبائی ایچ ای سیزکے اختیارات جبکہ تیسری میں مشترکہ اختیارات کی بات کی گئی ہے محض وفاقی ایچ ای سی کوحاصل اختیارات میں جامعات میں تدریسی وغیرتدریسی عملے کی بھرتیوں کے لیے کم از کم وہ قانون لاگوہوگاجووفاقی ایچ ای سی نے مرتب کیے ہیں تاہم اس کے علاوہ صوبائی ایچ ای سی اورجامعات مزیداپنی ضروریات کے مطابق اس میں اضافہ بھی کرسکیں گی کوئی بھی نیاادارہ قائم ہوگاتواس کے کم از کم قواعد یامعیارات وفاقی ایچ ای سی کے مطابق ہونگے وہی ان کاتعین کرے گا۔

نصاب کے حوالے سے کریڈٹ آورز اور دیگر ضروری تفصیلات یالوازمات بھی کم از کم وفاقی ایچ ای سی ہی مرتب شدہ ہونگے ڈگری کومساویانہ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کااختیاروفاقی ایچ ای سی کے پاس ہی ہوگااوراس کی تصدیق بھی وفاقی ایچ ای سی کرے گا۔ بین الاقوامی معاہدوں کااختیاربھی وفاقی ایچ ای سی کوہوگاقومی سطح پر اعلیٰ تعلیم کی ترجیحات اورقومی پالیسی کاتعین بھی ایچ ای سی کے پاس ہی ہوگا۔

دوسری جانب دوسری کیٹگری میں صوبائی ایچ ای سی کوحاصل اختیارات میں صوبائی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے بنائی جانے والی پالیسیز اوراس کی ریگولیشن کے اہم معاملات اس کے پاس ہونگے جو قومی معیارات کے مطابق ہونگے نئے ادارے کے قیام کے سلسلے میں این اوسی اورگائیڈ لائن صوبائی ایچ ای سی جاری کرے گا۔

اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے کوالٹی ایشورنس کی ذمے داری بھی صوبائی حکومتوں کی ہی ہوگی اداروں میں بہترنظم ونسق چلانے کی ذمے داری اوراس پرہدایت بھی صوبائی حکومت دے گی۔ اعلیٰ تعلیمی شعبے میں تھرڈپارٹی آڈٹ بھی صوبائی حکومت کرے گی۔

حکومت کے علاوہ دیگرذرائع سے مالی معاونت کے لیے رہنمائی بھی صوبائی ایچ ای سی کی ذمے داری ہوگی، اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے سمپوزیم،سیمناراورورکشاپ کے لیے معاونت صوبائی ایچ ای سی دے گا، مارکیٹ کی ڈیمانڈسے متعلق نئے پروگرام متعارف کرانے کی ذمے داری بھی صوبائی ایچ ای سی کی ہی ہوگی تدریس اورتحقیق کے مابین توازن برقراررکھنے کے لیے بھی رہنمائی صوبائی ایچ ای سی دے گا۔

صوبائی سطح پر اعلیٰ تعلیم کی ترقی کے لیے مختلف منصوبے بھی صوبائی ایچ ای سی ہی دے گا جبکہ جامعات کی استعدادکاربڑھانے کے لیے وفاقی اداروں کے ساتھ بھی رابطے رکھے جائیں گے تیسری اور آخری کیٹگری کے مطابق وفاقی اورصوبائی دونوں ایچ ای سیزجامعات کو فنڈنگ کی ذمے دارہونگی تاہم نئے این ایف سی ایوارڈ تک فنڈنگ کی ذمے داری وفاقی حکومت کی ہے۔

نئے این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبائی جامعات کی فنڈنگ کی ذمے داری بھی صوبائی حکومتوں کے پاس ہوگی وظائف ،اسکالرشپس،گرانٹس اورانڈومنٹ فنڈبھی دونوں ادارے جاری کریں گے دونوں ہی ریسرچ گرانٹ کے لیے کام کریں گے انڈسٹری اور اکیڈیمیاباہمی رابطہ کاکام دونوں کریں گے، فیکلٹی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے دونوں کام کریں گے جامعات سے ڈیٹا کلیکشن دونوں کرسکیں گے۔

بین الاقوامی روابط اورمشترکہ ریسرچ روابط کے لیے دونوں کام کرسکیں گے۔ علاوہ ازیں 3 متنازع امورمیں سے بھی 2پرمعاملات طے ہوگئے ہیں جس میں معیارات کے حوالے سے مانیٹرنگ وفاق اورصوبے دونوں کرسکیں گے، کمیشن کے18نمائندوں میں صوبوں کے 4 نمائندوں کے علاوہ 7 ماہرین تعلیم جن کاتقرروزیراعظم کرتے ہیں ان میں بھی صوبوں کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی۔

تیسرے متنازع معاملات ٹیسٹنگ باڈی کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا جسے مزید وسیع ترمشاورت سے مشروط کردیاگیاہے۔

The post اعلیٰ تعلیم؛ اختیارات کی قسیم پر وفاق اور صوبوں میں 8 سالہ ڈیڈ لاک ختم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://ift.tt/2F3e09x

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...