Skip to main content

بلوچستان میں 7 لاكھ سے زائد بچے اسكول سے محروم

کوئٹہ: سیكریٹری تعلیم نورالحق بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں 7 لاكھ سے زائد بچے اسكول جانے سے محروم ہیں۔

كوئٹہ كے مقامی ہوٹل میں غیر سركاری تنظیم ’’الف اعلان‘‘ كی جانب سے بلوچستان میں تعلیم كے حوالے سے گزشتہ 5 برس میں كی جانے والی اصلاحات اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی۔

اس موقع پر ’’الف اعلان‘‘ كے پالیسی ہیڈ سلمان نوید خان نے سپاس نامہ پیش كرتے ہوئے بتایا كہ بلوچستان میں  تعلیم كے حوالے سے مزید اقدامات ہونے چاہئیں، ہمیں 4 اہم چیزوں پر فوكس كرنے كی ضرورت ہے، اس بارے میں  ڈیٹا اكٹھا كركے ان كا استعمال كرنا ضروری ہے، گھوسٹ اساتذہ اور گھوسٹ اسكولوں کے بارے چھان بین كركے فعال رپورٹ سامنے لائی جائے، 5 سال میں تعلیم كے حوالے سے بے پناہ اصلاحات كی گئی ہیں وہیں چند چیلنجز درپیش ہیں۔

الف اعلان نے یہ بھی کہا ہے کہ پورے پاکستان کے لحاظ سے بلوچستان کے بچے سب سے زیادہ محروم اور نظر انداز کردہ ہیں۔ بلوچستان میں 18 لاکھ 90 ہزار بچے اسکول سے باہر ہیں ۔ دوسری جانب پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں بہت فرق اور تفریق ہے اسی وجہ سے پرائمری جماعت کے بچے سیکنڈری تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔

سیكریٹری تعلیم نورالحق بلوچ نے كہا كہ اس وقت جو بچے بلوچستان كے مختلف اضلاع میں اسكولوں سے باہر ہیں ان كے بارے میں پوچھنے كی ضرورت ہے، نقل كے رجحان اور امتحانی سینٹرز میں سی سی ٹی وی كیمروں كی تنصیب كے ساتھ شعور بیداری كی بھی ضرورت ہے، بلوچستان میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ سیاسی عدم استحكام كا ہے جس طرح 66 فیصد بچے غذائیت سے محروم ہیں اسی طرح شرح تعلیم بھی كم ہے۔

تقریب سے ماہرین نے پینل كی شكل میں فرداً فرداً دشواریوں اور بہتری کے حوالے سے بتایا كہ ضرورت اس امر كی ہے كہ شرح خواندگی كو بڑھایا جائے جو اس وقت 28 فیصد ہے، تعلیم اور غربت كے حوالے سے بلوچستان سرفہرست ہے، گزشتہ 70 سال میں اس قدر تعلیم پر توجہ نہیں دی گئی جس قدر گزشتہ 5 سال میں دی گئی، اس وقت بلوچستان میں 800 اسكولوں كی صرف عمارتیں كھڑی ہیں جن كا بچوں كو كوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔

The post بلوچستان میں 7 لاكھ سے زائد بچے اسكول سے محروم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://ift.tt/2ox38q4

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...