Skip to main content

سابق سی ای او پی آئی اے  کے ملک سے فرار کے معاملے کی تحقیقات کا حکم

 اسلام آباد: سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے سابق سی ای او برنڈ ہیلڈن  برانڈ کے ملک سے فرار کے معاملے کی تحقیقات کا حکم۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن(پی آئی اے)  کی کارکردگی سے متعلق سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس کنوئنر سینیٹرفرحت اللہ بابر کی  زیرصدارت ہوا جس میں وزارت داخلہ اور سول ایوسی ایشن کے حکام نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے۔

دوران اجلاس جرمن نژاد پی آئی اے کے سابق سی ای او برنڈ ہیلڈن برانڈ کے نام ای سی ایل میں ہونے کے باوجود بیرن ملک فرار کے سوال پر وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ  برنڈ ہیلڈن کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش وزارت خارجہ نے کی تھی اور برنڈ ہیلڈن کو باہر بھیجنے کی درخواست کے ساتھ سول ایوی ایشن کا ایک لیٹر بھی منسلک تھا، حکام نے کہا کہ وزارت خارجہ کی ایک ماہ کی زبانی ضمانت پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی۔

یہ خبر بھی پڑھیں: نام ای سی ایل میں ہونے کے باوجود پی آئی اے کے جرمن سی ای او بیرون ملک روانہ

دوسری جانب سول ایوزیشن کے حکام نے وزارت داخلہ کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے سابق سی ای او کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا بتایا گیا اور نہ ہی نام نکالنے کی سفارش کی۔

کمیٹی کے رکن طاہرحسین مشہدی نے کہا کہ سابق وزیر داخلہ نے برنڈ ہیلڈن برانڈ کو بیرون ملک فرار ہونے میں مدد دی، پی آئی اے کے جہاز کو فلم شوٹنگ کے بہانے باہر لے جایا گیا اور برنڈ ہیلڈن نے بغیر اجازت کے یہ جہاز جرمن میوزم کے حوالے کر دیا جہاں جہاز کو یہودی لابی کی مسلم دشمنی پر مبنی فلم کیلئے استعمال کیا گیا۔

وزارت داخلہ کے انکشاف پر کمیٹی نے برنڈ ہیلڈن کے بیرون ملک فرار کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ پی آئی اے کے طیارے کی اونے پونے داموں فروخت کے معاملے پر جرمن نژاد سابق سی ای او کو عہدے سے ہٹادیا گیا تھا اور ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے ای سی ایل میں نام شامل کیا گیا تاہم چند روز بعد ہی برنڈ ہیلڈن بیرون ملک فرار ہوگئے۔

The post سابق سی ای او پی آئی اے  کے ملک سے فرار کے معاملے کی تحقیقات کا حکم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://ift.tt/2nrN8Ez

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...