Skip to main content

عاصمہ کو ملزم نے پہلے بھی قتل کی دھمکیاں دی تھیں، بہن صفیہ

کوہاٹ: رشتے سے انکار پر قتل ہونے والی طالبہ عاصمہ کی بہن کا کہنا ہے کہ ملزم مجاہد نے پہلے بھی عاصمہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی تھیں۔

کوہاٹ میں رشتہ سے انکارپر بے دردی سے قتل ہونے والی عاصمہ کی بہن  صفیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ روزانہ پاکستان میں قتل کی وارداتیں ہورہی ہیں جس کے خلاف حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ قصور میں زینب ، مردان میں اسما اور کراچی میں نقیب اللہ کے بعد میری بہن کو بھی ماردیا گیا، میری بہن نے نزاعی بیان دیا ہے کہ مجاہد نے اسے قتل کیا ہے، ملزم نے پہلے بھی مجھے فون کرکے بہن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی تھیں۔

صفیہ نے کہا کہ مجاہد پہلے سے شادی شدہ تھا، اگر رشتہ نہیں دیا تو کیا قتل کرنا ضروری تھا، ضروری نہیں کہ جورشتہ مانگے اس سے شادی کرادی جائے، پولیس غریب آدمی کوپکڑتی ہے مالدارکو ہاتھ نہیں لگاتی، عمران خان کی حکومت اورتمام پاکستانی عوام سے مدد کی اپیل کرتی ہوں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: چیف جسٹس نے عاصمہ قتل کیس کا ازخود نوٹس لے لیا

بہن صفیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم غریب ہیں بڑی مشکل سے بہن کو تعلیم دلوا رہے تھے، بیرون ملک مزدوری کر رہی ہوں اور بہن کی تعلیم کا خرچہ برداشت کررہی تھی، عاصمہ نے مجھے کہا تھا کہ باجی جب آپ وطن واپس آئیں گی تو میں ڈاکٹر بن چکی ہوں گی، لیکن ڈاکٹربننے سے پہلے ظالموں نے میری پھول جیسی بہن کوقتل کیا اوراگر قاتلوں کوسزا نہ ہوئی تو تمام لوگ گنہگارہوں گے ، ابھی تک ہماری کسی نے مدد نہیں کی۔

واضح رہے کہ میڈیکل کی طالبہ عاصمہ بی بی کو تحریک انصاف کے ضلعی صدرکے بھتیجے مجاہد آفریدی نے شادی سے انکار پر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا اوربعد ازاں وہ سعودی عرب فرارہوگیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔

The post عاصمہ کو ملزم نے پہلے بھی قتل کی دھمکیاں دی تھیں، بہن صفیہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://ift.tt/2Eri6VG

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...