Skip to main content

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک نوجوان شہید

 سری نگر:  مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی بربریت جاری ہے جب کہ ایک اور زخمی نوجوان شہید ہوگیا جس کے بعد شہادتوں کی تعداد 3 ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق بھارت کے زیر تسلط جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے گنو پورہ میں قابض بھارتی فورسز نے پر امن احتجاج کے دوران مظلوم کشمیریوں پر براہ راست فائرنگ کے واقعے کا شدید زخمی نوجوان رئیس احمد گنائی گزشتہ روز علی الصباح سری نگر کے شیر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں دم توڑ گیا۔

واضح رہے کہ قابض بھارتی فورسز کی جا نب سے شہید نوجوان رئیس احمد کے سر کو نشانہ بنا کر گو لی چلائی گئی تھی جو 4 دن زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد شہید ہو گیا تاہم بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری نوجوان رئیس احمد گنائی کی شہادت پر گزشتہ روز پلوامہ اور شوپیاں کے اضلاع میں مکمل ہڑتال کی گئی جب کہ قابض فوجیوں کی فائرنگ سے زخمی ہونیوالے 2 نوجوان20سالہ جاوید احمد بٹ اور 24سالہ سہیل جاوید لون پہلے ہی روز اسپتال میں دم توڑ بیٹھے تھے۔

رئیس گنائی کی شہادت سے شوپیاں میں فائرنگ سے شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر 3 ہو گئی، ہڑتال کے باعث دونوں اضلاع میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل تھی جب کہ رئیس احمد کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی دونوں قصبوں میں دکانداروں نے اپنی دکانیں بند کر دیں۔

دریں اثنا مشترکہ حریت قیادت کے زیراہتمام بدھ کو نوہٹہ جامع مسجد کے باہر پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، یاسین ملک نے مظاہرے کی قیادت کی جبکہ قابض انتظامیہ نے سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو مسلسل گھروں میں نظربند رکھ کر مظاہرے میں شرکت نہیں کرنے دی۔

مشترکہ حریت قیادت نے اس موقع پر جامع مسجد شوپیاں میں نماز جمعہ ادا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شوپیاں میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کے خلاف آواز بلند کی جائے گی اور نہتے کشمیری عوام خاص طور پر نوجوانوںکے قتل کے خلاف شوپیاں میں میں احتجاج کیاجائے گا۔

The post مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک نوجوان شہید appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » انٹر نیشنل http://ift.tt/2nws6oj

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...