Skip to main content

8 سالہ بچی کو اغوا کرنے والے گداگر میاں بیوی گرفتار

 کراچی: بوٹ بیسن پولیس نے 8 سالہ بچی کو اغوا کرنے والے گداگر سمیت اس کی بیوی کو گرفتار کرلیا۔

بوٹ بیسن پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شوہر نذر محمد اور بیوی نذیراں کو گرفتار کرلیا جن کے قبضے سے8 سال بچی کو بازیاب کرالیا گیا،گرفتار شوہر اور بیوی نے نیلم کالونی سے8سالہ بچی کو اغوا کیا تھا اور اس کے بعد اندرون سندھ فرار ہو گیا تھا اور اغوا ہونے والی بچی کے والد فدا حسین سے2لاکھ روپے تاوان کی رقم کا تقاضا اور مسلسل فون کرنے پر یہ کہتا رہا کہ اگر رقم کا بندوبست نہیں کیا تو وہ بچی کو قتل کردے گا۔

اے ایس پی کلفٹن رضوان طارق نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اغوا کا مقدمہ 25جنوری کو بوٹ بیس تھانے میں بچی والد فدا حسین کی مدعیت میں درج ہوا تھا جس کے6روز بعد پولیس نے بس اڈے پر چھاپہ مار کر 8 سالہ لاریب کو بازیاب کرالیا۔

لاریب نیلم کالونی کے رہائشی تھی جس کے برابر مکان میں کرایہ دار پڑوسی رہتے تھے،پڑوسی بچی کو بھلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا اور بعد میں اندرون سندھ مزارات پر لے کر گھومتا رہا، پولیس نے ایس ایچ او نصیر تنولی کی سربراہی میں متعدد بار چھاپے مارے لیکن ملزمان اپنا موبائل فون بند کردیتے تھے۔

ملزمان کے کال ڈیٹا ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ بچی اغوا کے بعد انھوں نے اندرون پنجاب مزارات پر بھی رابطے کیے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزمان مغویہ بچی کو اندرون پنجاب لے جاناچاہتے تھے، گرفتار ملزمان گداگر ہیں تاہم پولیس ملزمان سے مزید تحقیقات کررہی ہے۔

علاوہ ازیں تیموریہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم رضوان کو گرفتار کرکے چھینی گئی نقدی اور موبائل فون برآمد کر لیا جب کہ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث ہے۔ ادھر گل بہار پولیس نے گولیمار حاجی مرید گوٹھ میں کارروائی کرتے ہوئے2ملزمان نریش اور محمد رفیق کو گرفتار کر کے اسلحہ اور منشیات برآمد کر لی۔

The post 8 سالہ بچی کو اغوا کرنے والے گداگر میاں بیوی گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » پاکستان http://ift.tt/2FytAWs

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...

اردو اوربرصغیر کی دیگرزبانوں میں پودوں، سبزیوں اور پھلوں کے مشترک نام

زباں فہمی کالم نمبر53 (آخری حصہ) اسی کالم کی پچھلی قسط میں لہسن کے عربی نام، تُوم کے براہوئی میں جُوں کے تُوں استعمال ہونے کی بات ہوئی تو یہ ذکر رہ گیا کہ اس اتفاق کا پس منظر بہت حیران کُن ہے۔ موئن جودَڑو، ہڑپہ اور (ان دونوں سے زیادہ قدیم) مہرگڑھ کے آثار کی زبان پڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ماہرِلسانیات ابوالجلال ندوی مرحوم نے انکشاف کیا تھا کہ یہ کوئی اور زبان نہیں، بلکہ عربی کی ابتدائی شکل ہے جوکسی باقاعدہ رسم الخط کی ایجاد سے قبل، تصویری انداز میں تحریر کی جاتی تھی۔ مہابھارت کے عہد تک خطۂ ہند میں عربی بولی جاتی تھی (بحوالہ ’’ہند و عرب کے تعلقات‘‘ از علامہ سید سلیمان ندوی بحوالہ ستیارتھ پرکاش، منقولہ در مضمون ’سندھی مُہریں‘ از قلم ابوالجلال ندوی)۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بعض آثار کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کا مذہب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’دینِ حنیف‘‘ تھا یعنی اسلام کی ابتدائی شکل۔ یہ تمام تفصیل ذہن میں رکھیں تو براہوئی ہی نہیں، بلکہ ویدِک، سنسکِرِت، قدیم ہندی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور ہندکو زبان میں پایا جانے والا عربی ذخیرۂ الف...