Skip to main content

وقت کا صحیح استعمال

http://ift.tt/eA8V8J

ہر شخص کی زندگی ماضی، حال اور مستقبل میں تقسیم ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ماضی اچھا تھا یا مستقبل اچھا ہو گا۔

ماضی کی تلخ و شیریں یادیں جن میں تبدیلی نا ممکن ہوتی ہے، بس ہم پچھتاوا کر سکتے یا فخر کر سکتے ہیں۔ حال منصوبہ بندی کے لیے ہوتا ہے ۔ اگر حال خوشحال ہو تومنصوبہ بندی بھی بہتر ہو گی اور حال اگر حال و بے حال ہے تو پھر منصوبہ بندی بھی مخدوش قِسم کی ہو گی۔ مستقبل میں یہ خوبی ضرور ہے کہ انسان امید پہ زندہ ہے اور وہ مستقبل کے بارے میں ہمیشہ سہانے سپنے دیکھتا ہے چاہے وہ کسی بھی حال میں ہو۔

مستقبل کی منصوبہ بندی جو بھی ہولیکن بہترین منصوبہ بندی وہ ہے جس میں اپنی ماضی کی غلطیوں کو سامنے رکھا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی عاقبت کو بھی سامنے رکھا جائے۔

انسان ہمیشہ آسائشات چاہتا ہے اور ان کے لیے ہی منصوبہ بندی کرتا ہے تا کہ آنے والے وقت میں اپنی زندگی لذتوں میں گزار سکے۔ یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ لذتیں زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں۔ جیسا کہ گرمی میں ٹھنڈا پانی پیاس کی حد تک ہی پیا جا سکتا ہے۔دھوپ موسمِ سرما میں کچھ دیر کے لیے تو لذت دے سکتی ہے زیادہ دیر برداشت نہیں ہوتی ۔ کھانے کی لذت بھی بھُوک کی حد تک محدود ہے۔ کوئی بھی انسان لذتوں کے دریا میں طویل عرصہ تک غوطہ زن نہیں رہ سکتا۔ضرورت سے زیادہ کسی چیز کا استعمال ہلاکت نہیں تو بیماری کا سبب ضرور بنتا ہے۔ اگر بے راہ روی کی لذتوں کا ذکر کریں تو کوئی وقت آتا ہے کہ انسان کے پاس ملال کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔

منصوبہ بندی میں اچھے اعمال کو ضرور مدِ نظر رکھا جانا چاہئیے کیونکہ وقت تو کوئی نظر آنے والی چیز نہیں۔ بس ایک ہی رفتار سے چلتا چلا جا رہا ہے۔ نہ رکتا ہے نہ تھکتا ہے۔ اس کا سب سے چھوٹا پیمانہ لمحہ ہے۔ جو لوگ اس چھوٹے سے چھوٹے پیمانہ لمحہ کو بھی ضائع کیے بغیر وقت کے ساتھ چلتے ہیں اور اپنے اعمال کو درست سمت میں رکھتے ہیں ، اچھے اعمال میں اچھے اعمال ملاتے چلے جائیں تو نتیجہ تریاق کی شکل میں نکلے گا اور یہ اعمال کے شفاف پانی کے چشمے کا بہاؤ اسے صراطِ مستقیم کی مانند سیدھا جنت میں لے جائے گا۔ اس میں اگر ذرا سا بھی گندا پانی شامل ہو جائے تو نتیجہ برعکس بھی ہو سکتا ہے۔

یوں تو انسانی زندگی کا آدھا وقت ، اس سے ذرا زیادہ یا ذرا کم حالتِ نیند میں گزر جاتا ہے ۔ کچھ وقت فارغ بیٹھنے میں اور کچھ وقت فضول مشاغل میں گزرتا ہے۔اور کچھ وقت سواری کے انتظار میں، بجلی، پانی، گیس اور ٹیلی فون کے بل جمع کروانے کے انتظار میں گزرتا ہے۔ اس طرح ایک زندہ اور ایک مردہ انسان میں کتنا فرق رہ جاتا ہے۔

اپنے وقت کے استعمال میں اپنے اپنے مذہب اور عقیدہ کے مطابق اپنے اللہ سے رابطہ اور امید وابستہ رکھیں۔ حصولِ علم یا کوئی تکنیک کے حصول میںیا سپورٹس میں اپنا وقت صرف کریں اور با عزت زندگی گزارنے کے لئے خود مختار اور خود کفیل ہوں۔حصولِ دولت میں نا جائز ذرائع استعمال کرنے میں اپنا وقت بالکل ضائع نہ کریں۔ کیونکہ دولت کی حرص انسان کو ذلت کی موت دیتی ہے۔ وقت کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ آپ کووقتاٌ فوقتاٌ جھنجھوڑتا ہے۔ جب یہ ہاتھ سے نکل جائے تو تب کیا پچھتانا جب چڑیاں کھیت چُگ گئی ہوتی ہیں۔

دنیا کا کوئی کام نا ممکن نہیں صرف منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے اچھے نصب العین کو قلب و ذہن میں رکھتے ہوئے اس سمت چل پڑیں جدھر آپ کا مقصد ہے۔ منزل قدموں میں آ ہی جاتی ہے۔

The post وقت کا صحیح استعمال appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » دلچسپ و عجیب http://ift.tt/2AYj2Od
via IFTTT

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...