Skip to main content

’’میکنک‘‘ بادشاہ

http://ift.tt/eA8V8J

دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کو تاریخ ان کے جاہ و جلال کے حوالے سے جانتی ہے لیکن ایک افریقی بادشاہ نے حکمرانی کے ساتھ مزدوری کر کے دنیا کی توجہ حاصل کر لی۔

اس67 سالہ منفرد حکمران کا شاہی نام ’’ٹوگبی نگوریفیا سیفاس کوسی بانسا‘‘(Togbe Ngoryifia Céphas Kosi Bansah) ہے۔عرف عام میں کنگ سیفاس کہلاتا ہے۔اس کی سلطنت کانام ’’گبی‘‘ ہے جو مشرقی گھانا میں ٹوگو کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ کنگ سیفاس کی سلطنت میں تین لاکھ سے زائد افراد بستے ہیں۔ یہ بادشاہ سلامت محنت مزدوری کے لیے جرمنی میں مقیم ہیں اور وہاں مکینک کا کام کرتے ہیں۔ یہ کوئی لطیفہ نہیں بلکہ واقعی حقیقت ہے کہ کنگ سیفاس نے لڈ وک شیفن کے علاقے میں اپنی ورکشاپ بنارکھی ہے، جہاں وہ دن بھر تیل اور گریس میں لتھڑے رہتے ہیں۔ یہ بادشاہ سلامت سال میں سات آٹھ مرتبہ اپنی سلطنت کا دورہ کرتے ہیں جبکہ باقی دنوں میں سکائپ کے ذریعے حکمرانی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔

کنگ سیفاس 1970ء میں اس وقت جرمنی آئے جب ان کے دادا ،کنگ ہوہو نے انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجا۔ جرمنی آکر انہوں نے کچھ تعلیم حاصل کی لیکن انہیں تعلیم سے زیادہ مکینک بننے کا شوق تھا۔ لہٰذا انہوں نے تربیت حاصل کی اور ایک اچھے مکینک بن گئے۔ جرمنی میں قیام کے دوران انہیں شہریت بھی مل گئی اور انہوں نے شادی بھی ایک جرمن خاتون سے کرلی۔

1987ء میں انہیں اپنے وطن سے ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ان کے دادا بادشاہ ہوہو وفات پاگئے ہیں۔ سیفاس کے والد اور بڑے بھائی ان سے پہلے بادشاہت کا حق رکھتے تھے، مگر ایک دلچسپ وجہ کی بنا پر رعایا نے انہیں بادشاہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ یہ دونوں صاحبان دائیں کی بجائے بایاں ہاتھ استعمال کرتے تھے، جسے گبی سلطنت کے لوگ منحوس سمجھتے ہیں۔ لہٰذا بادشاہت کا قرعہ سیفاس کے نام نکل آیا۔اس فیصلے کے بعد سیفاس اپنے وطن واپس گئے اور انہیں بادشاہت کے منصب پر فائز کردیا گیا۔ وہ بادشاہ تو بن گئے مگر انہوں نے جرمنی میں اپنی ورکشاپ کا کاروبار بھی جاری رکھا اور اب وہ ایک کل وقتی مکینک جبکہ جزوقتی بادشاہ ہیں۔

سیفاس صرف نام کے بادشاہ نہیں بلکہ وہ ایک حقیقی حکمران ہیں اور انہوں نے اپنی قوم کے لیے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ وہ یورپی ممالک سے چندہ اکٹھا کرکے اپنی مملکت میں فلاحی کام کرتے ہیں۔ انہوں نے سلطنت گبی میں درجنوں سکول، ہسپتال اور دیگر فلاحی ادارے یورپ سے اکٹھے کیے گئے چندے سے بنائے ہیں۔ ان کی جرمن اہلیہ بھی وقتاً فوقتاً اپنے دو بچوں کے ہمراہ افریقی سلطنت کا دورہ کرتی ہیں۔ کنگ سیفاس کی اہلیہ اور بچے امور سلطنت کی انجام دہی اور خصوصاً فلاحی کاموں میں ان کی مدد کرتے ہیں۔

کنگ سیفاس اس حوالے سے بھی خوش نصیب ہیں کہ ان کی قوم ان سے بہت پیار کرتی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اپنی قوم کو لوٹ کر پیسہ باہر لے جانے کے بجائے یہ بادشاہ باہر سے چندہ اکٹھا کر کے لاتا ہے تا کہ اپنے لوگوں کے لیے ہسپتال اور سکول بنا سکے۔n

The post ’’میکنک‘‘ بادشاہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو » دلچسپ و عجیب http://ift.tt/2jEeclI
via IFTTT

Popular posts from this blog

ملیے جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور سے

ٹوکیو:  بہت بڑا ٹریلر یا ٹرک عموماً مرد حضرات ہی چلاتے ہیں لیکن جاپان میں 24 سالہ خوبرو لڑکی بڑی مہارت سے یہ ٹرک چلاتی ہے اور اس کا حسن دیکھ کر لوگ اسے سراہتے ہیں تاہم وہ چاہتی ہے کہ لڑکیاں بھی اس شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ رائنو ساساکی جاپانی علاقے کوچی میں رہتی ہے اور 7 سال قبل اس کے ٹرک ڈرائیور والد شدید بیمار ہوگئے جس کے بعد رائنو نے سیکڑوں میل دور اکیلے ٹرک چلانے میں والد کی مددگار بننے کا فیصلہ کیا۔ 21 سال کی عمر میں رائنو نے رقص کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لی۔ رائنو اب ٹرک میں اپنے والد کے ساتھ سفر کرتی ہے اور ان سے ٹرک ڈرائیونگ کے گُر بھی سیکھتی رہتی ہے۔ اس کے حسن اور ہمت کی بنا پر فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر ہزاروں لوگ رائنو کے فالوورز بن چکے ہیں اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب رائنو کو جاپان کی سب سے خوبصورت ٹرک ڈرائیور کے نام سے بھی پکارا جارہا ہے۔ رائنو کو ٹرک چلاتے ہوئے 7 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس کی جسامت کے مطابق یونیفارم نہیں مل سکا کیونکہ جیکٹ، پینٹ اور دستانے وغیرہ سب مردوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ وہ مست...

افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 افراد ہلاک

کابل:  افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد  زخمی ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں  زلزلے سے 250 افراد ہلاک اور500 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔زلزلے سے پکتیکا میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خوست شہر سے 27 میل دور تھا اوراس کی گہرائی 31 میل تھی۔ زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کئے گئے۔افغان حکام نے امدادی ٹیموں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ افغانستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 250 سے زائد افراد جاں بحق، صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریسکیو ٹیمیں پکتیکا پہنچ گئیں، امدادی سرگرمیاں شروع، زلزلے سے اب تک 1250 افراد زخمی ہوئے ہیں pic.twitter.com/5BoyWwge9P — ترکیہ اردو (@TurkeyUrdu) June 22, 2022 زلزلے سے کچے مکانات گر گئے اورزمین میں دراڑیں پڑگئیں۔حکام نے زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔ زلزلہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ The post افغانستان میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 250 ا...

ملک میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

 لاہور:  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر چولستان اورمکران کے ساحلی علاقوں میں یورپی گرفن اورمصری نسل کے گدھ دیکھے گئے ہیں ، محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف خطوں میں معدومی کا شکار گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی طرف سے سوشل میڈیا پر مصری نسل اور یورپی گرفن نسل کے گدھوں کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں چولستان اور رحیم یارخان کے علاقوں میں گدھ دیکھے گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بھی چند مقامات پر سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔ مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے علاقے میں بھی مصری اوریورپی گرفن گدھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ضلع ننگرپارکرمیں لمبی چونج والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ بھی موجود ہیں تاہم ان کی تعداد خاصی کم ہے، سفید پشت والے گدھوں کی چھانگامانگا میں بنائے...